مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 12:37
بریکنگ
ڈیرہ اسماعیل خان: کواڈ کاپٹر گرنے سے بچہ جاں بحق، ماں اور بھائی زخمیپاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعاتکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین کی ویکسینیشن معطل، کاؤنٹر ہٹا دیا گیاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: خلیجی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور آئی ایم ایف کے خدشاتفرانس میں مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات کیخلاف مظاہرے، 70 ہزار اہلکار تعیناتحکومت کا عمومی سبسڈی ختم کر کے ہدفی سبسڈی دینے کا فیصلہ: وزیر خزانہپنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی وجوہات سامنے آ گئیںپی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا میں تنظیمی امور کیلئے متبادل انتظام کا فیصلہپاکستان میں فلو ویکسین کی قلت، وفاقی وزیر نے ڈریپ کو قیمتوں پر نظرثانی کا حکم دے دیالاہور جنرل ہسپتال: فرائض میں غفلت برتنے والے دو ملازمین کے خلاف کارروائیعراقی سوشل میڈیا انفلوئنسر کی بغداد کے انفراسٹرکچر پر تنقیدامریکہ میں مصنوعی منشیات کا بحران، فینٹانائل کے ساتھ خطرناک کیمیکلز کا استعمالمیرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول اب انتہائی آسان، طریقہ کار جاریمسلم ممالک کے مابین اتحاد اور دفاعی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے: ماہرینلاہور کے باغ جناح گراؤنڈ میں 21 سال بعد فرسٹ کلاس کرکٹ کی واپسیصدر آصف علی زرداری کا جرمنی کا سرکاری دورہ مکمل، وطن واپسی کے لیے روانہبالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف نے ممبئی میں اپنا اپارٹمنٹ فروخت کر دیاگجرانوالہ بورڈ: بینائی سے محروم طالبہ زینت کی گیارہویں جماعت کے امتحان میں شاندار کامیابیلاہور: ڈیفنس فیز 6 حادثے کی نئی فوٹیج منظر عام پر، ڈرفٹنگ اور ریس کا انکشاف
دنیا

فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات کیخلاف مظاہرے، 70 ہزار اہلکار تعینات

فرانس کے مختلف شہروں میں طلبہ اور ٹریڈ یونینز کا احتجاج جاری، حکام کی جانب سے 135 مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات کیخلاف مظاہرے، 70 ہزار اہلکار تعینات

فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، تعلیمی نظام میں نقائص اور عوامی سہولیات کے فقدان کے خلاف ملک گیر احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے۔ پیرس سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں طلبہ، مزدوروں اور ٹریڈ یونینز کے کارکنوں نے سڑکوں پر نکل کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر فرانسیسی حکام نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار اور جنڈارم تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔

وزیر داخلہ لوراں نونیز نے پولیس کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جائے اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ حکام کے مطابق ہفتے کی دوپہر تک 135 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں سہولیات کو بہتر بنایا جائے، اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور پنشن کے معاملات میں اصلاحات کی جائیں۔ اس کے علاوہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ بھی ان کے کلیدی مطالبات میں شامل ہے۔

پیرس میں مظاہرین کے مجوزہ راستوں میں پولیس کی جانب سے آخری لمحات میں تبدیلی کے فیصلے پر تنازع پیدا ہوا، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ شہر کے کئی اہم ثقافتی مقامات بشمول لوور میوزیم اور اوپیرا ہاؤس کو احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کر دیا گیا۔

شہر کے 20 سے زائد میٹرو اسٹیشنوں کو بھی عارضی طور پر بند کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔ لیون سمیت دیگر شہروں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔

متعدد شہروں میں احتجاج پر سخت پابندیاں اور اجتماعات کے حوالے سے کڑی شرائط نافذ کی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز نے ان اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پرامن احتجاج کے حق پر قدغن قرار دیا ہے۔

دوسری جانب صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت نے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا عندیہ دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ عوامی مشکلات کا ادراک ہے اور ان پر مرحلہ وار کام کیا جا رہا ہے۔

تاہم، طلبہ تنظیموں اور یونینز کا موقف ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے واضح اور عملی اقدامات سامنے نہیں آتے، تب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک پیچھے نہ ہٹنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

فرانس میں جاری یہ احتجاجی لہر حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی بے چینی کی عکاس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار نہ کیا تو ملک میں معاشی اور سماجی مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی فرانس کے مختلف حصوں میں پُرتشدد واقعات اور لوٹ مار کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ حکومت ان واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ رکھنے پر مجبور ہے۔

ملک بھر میں جاری ان مظاہروں نے معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہونے سے تجارتی سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہیں، جبکہ عوام کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

آنے والے دنوں میں صورتحال کا انحصار حکومتی مذاکرات اور مظاہرین کے ردعمل پر ہوگا۔ فی الحال پیرس اور دیگر بڑے شہروں میں سکیورٹی فورسز کا گشت جاری ہے اور انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں