لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں دو روز قبل پیش آنے والے خوفناک ٹریفک حادثے کے بارے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں حادثے سے چند منٹ قبل کی نئی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی ہے۔ اس المناک واقعے کے نتیجے میں تین نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے جبکہ ایک نوجوان شدید زخمی ہو گیا تھا۔
نجی نیوز چینل سٹی 42 کی جانب سے حاصل کی گئی اس نئی فوٹیج نے حادثے سے قبل کی تمام تر صورتحال کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔ اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حادثے کی شکار گاڑی میں سوار نوجوان سڑک پر انتہائی غفلت، لاپرواہی اور حد سے زیادہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
منظر عام پر آنے والی ویڈیو کے مطابق، حادثے سے چند لمحات قبل دو مختلف گاڑیوں میں سوار نوجوان ڈیفنس کی کھلی سڑک پر آپس میں باقاعدہ ریس لگانے میں مصروف تھے۔ یہ نوجوان ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دھن میں اپنی گاڑیوں کو تیز ترین رفتار سے دوڑا رہے تھے اور ٹریفک قوانین کا کوئی پاس نہیں رکھ رہے تھے۔
سٹی 42 کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں یہ بھی نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ریس کے دوران نوجوان سڑک کے وسط میں خطرناک انداز سے ڈرفٹنگ بھی کرتے رہے۔ تیز رفتار گاڑیوں کے ذریعے سڑک پر اس طرح ڈرفٹنگ کرنا نہ صرف ان کی اپنی جانوں کے لیے بلکہ دیگر مسافروں کے لیے بھی انتہائی جان لیوا ثابت ہوا۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوان سڑک پر چلتی ہوئی عام ٹریفک کے درمیان اپنی گاڑیوں کو خطرناک انداز میں دائیں بائیں زگ زیگ کا مظاہرہ بھی کر رہے تھے۔ وہ سڑک پر سفر کرنے والی دیگر گاڑیوں کے انتہائی قریب سے گزر کر انہیں خطرے میں ڈال رہے تھے، جس کی وجہ سے کسی بھی وقت بڑا حادثہ رونما ہو سکتا تھا۔
تحقیقاتی ذرائع اور فوٹیج کے باریک بینی سے کیے گئے جائزے کے مطابق، سڑک پر مسلسل تیز رفتاری اور غیر محتاط ڈرائیونگ کے باعث اچانک ایک کار کا ٹائر پھٹ گیا۔ شدید رفتار اور غیر متوازن ڈرائیونگ کی وجہ سے گاڑی کے ٹائر پر اضافی دباؤ پڑا جس سے وہ یکایک دھماکے سے پھٹ گیا۔
ٹائر پھٹنے کے باعث ڈرائیور کار پر سے اپنا تمام کنٹرول کھو بیٹھا اور تیز رفتار گاڑی بے قابو ہو گئی۔ کار لمحوں میں سڑک کے کنارے نصب مضبوط ریلنگ کے ساتھ انتہائی شدید رفتار سے جا ٹکرائی، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ارد گرد کے لوگ خوفزدہ ہو گئے۔
اس دلخراش اور شدید ترین ٹکر کے نتیجے میں گاڑی کے پرخچے اڑ گئے اور کار میں موجود نوجوانوں کو خود کو سنبھالنے یا گاڑی سے نکلنے کا کوئی موقع نہ مل سکا۔ حادثے کی شدت کے باعث کار میں سوار تین نوجوانوں نے موقع پر ہی دم توڑ دیا اور شدید جانی نقصان ہوا۔
اس خوفناک حادثے کے نتیجے میں چوتھا نوجوان شدید زخمی حالت میں کار کے اندر ہی پھنس کر رہ گیا تھا، جسے فوری طور پر نکال کر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ طبی حکام کے مطابق زخمی نوجوان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور اسے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈیفنس فیز 6 اور لاہور کے دیگر وسیع اور کھلے علاقوں میں اکثر رات گئے نوجوانوں کی جانب سے اس قسم کی ریسنگ اور ڈرفٹنگ دیکھنے میں آتی ہے۔ قیمتی اور تیز رفتار گاڑیوں کے مالک یہ نوجوان اکثر جوش میں آ کر سڑکوں کو ریس ٹریک بنا لیتے ہیں جو کہ المیہ کا سبب بنتا ہے۔
سٹی 42 کی اس بریکنگ رپورٹ اور ویڈیو کے بعد مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کی سڑکوں پر رات کے وقت پیٹرولنگ بڑھائی جائے۔ شہریوں نے زور دیا کہ اسٹریٹ ریسنگ اور ڈرفٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات کیے جائیں۔
سماجی ماہرین اور شہریوں نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے کمسن اور نوجوان بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں دیر رات گاڑیوں کے ساتھ باہر نکلنے یا تیز رفتاری سے منع کریں۔ والدین کی تھوڑی سی لاپرواہی اس طرح کے المناک واقعات میں پیاروں کی جان کا سبب بن جاتی ہے۔
پولیس اور ریسکیو حکام کی جانب سے سامنے آنے والی اس نئی فوٹیج کا باریک بینی سے معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے تمام محرکات سامنے آ سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریس میں شامل دوسری گاڑی کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے گی۔





اپنی رائے دیں