عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر علی ریدھا کی جانب سے شہر کے خستہ حال انفراسٹرکچر اور صفائی کے ناقص انتظامات پر مبنی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔
اس ویڈیو میں علی ریدھا نے بغداد کے ٹریفک نظام اور سڑکوں کی ابتر صورتحال کو بھارت کے شہری علاقوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
علی ریدھا نے اپنی ویڈیو میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی والدہ نے سبزی خریدنے کے لیے مارکیٹ بھیجا تھا، لیکن جب وہ گھر سے باہر نکلے تو انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ بھارت پہنچ گئے ہوں۔
ویڈیو کے دوران انفلوئنسر نے ماتھے پر روایتی بھارتی ٹیکہ لگا رکھا تھا اور پس منظر میں بھارتی موسیقی کا استعمال کیا گیا تھا، جس کا مقصد اپنے پیغام کو مزید واضح اور طنزیہ بنانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بغداد کی سڑکوں پر موجود گڑھے، ابلتے ہوئے گٹر اور کچرے کے ڈھیر دیکھ کر یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا وہ اپنے ملک عراق میں ہیں یا کسی بھارتی شہر میں موجود ہیں۔
علی ریدھا نے مزید کہا کہ بھارت کو اکثر عجوبوں کا ملک کہا جاتا ہے جہاں انفراسٹرکچر کے مسائل عام ہیں، اور اب بغداد کی صورتحال بھی کچھ اسی نہج پر پہنچ چکی ہے جو کہ تشویشناک ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کو ہزاروں افراد نے دیکھا ہے، جس کے بعد بغداد کے شہری انتظامیہ کی کارکردگی اور شہر کی صفائی کے حوالے سے عوامی سطح پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ بغداد جیسے تاریخی شہر میں انفراسٹرکچر کی بحالی ایک طویل عرصے سے حکام کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے، اور اس طرح کی ویڈیوز عوامی دباؤ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
انفلوئنسر کی جانب سے اس انداز میں احتجاج کرنے کا مقصد حکام کی توجہ شہر کے بنیادی مسائل کی طرف مبذول کرانا ہے تاکہ عوامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بغداد کے رہائشیوں کی جانب سے بھی اکثر سوشل میڈیا پر شہر کی سڑکوں کی مرمت اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں جو کہ اب ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔
اس ویڈیو کے بعد مقامی میڈیا میں بھی بغداد کے شہری مسائل پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کی تزئین و آرائش کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
علی ریدھا کی اس ویڈیو نے جہاں ایک طرف تفریحی پہلو اختیار کیا ہے، وہیں دوسری طرف یہ انتظامیہ کے لیے ایک آئینہ بھی ہے جو شہر کی موجودہ حالت زار کی عکاسی کرتی ہے۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس طرح کی عوامی آوازوں کے بعد متعلقہ ادارے بغداد کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔





اپنی رائے دیں