اسلام آباد میں فورم آف انفارمیشن گروپ سیکرٹریز (ایف آئی جی ایس) کے زیر اہتمام ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلم ممالک کے مابین باہمی اتحاد، دفاعی تعاون کے فروغ اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
سیمینار کے مقررین نے خبردار کیا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی وسیع تر علاقائی تصادم کا موجب بن سکتی ہے، جس کے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے خطاب کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کئی دہائیوں پر محیط دشمنی، پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں سے متعلق اختلافات کا نتیجہ قرار دیا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے مسلسل دباؤ، پابندیوں اور دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عرصے کے دوران ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کا بھی ذکر کیا۔
ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران 2003 سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں امریکہ کی جانب سے جے سی پی او اے سے دستبرداری نے بحران کو مزید مشکل بنا دیا۔
سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے پاکستان کو درپیش سفارتی چیلنجز کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاہدے کو ایران کے خلاف سمجھا گیا تو پاکستان کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سفیر انعام الحق نے مسلم ممالک کے دفاعی تعاون کو ایران سمیت دیگر مسلم ریاستوں تک وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی تعاون سے علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے اور تنازعات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرے، اپنی داخلی استعداد کو مضبوط بنائے اور معاشی مشکلات کے تناظر میں اپنے تزویراتی وعدوں کا محتاط جائزہ لے۔ انہوں نے چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے ساتھ تنازع میں اپنے اہم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزید کشیدگی تصادم کو وسیع کر سکتی ہے جس کے علاقائی اور عالمی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے اور موجودہ معاہدوں کے ممکنہ اثرات کا محتاط جائزہ لے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اور بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورت حال کو بھی اجاگر کیا۔
مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ مسلم ممالک باہمی تعاون کو مضبوط بنائیں، اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مسلم دنیا میں تقسیم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
سیمینار کی نظامت اطلاعات و نشریات کے سابق وفاقی سیکرٹری اشفاق احمد گوندل نے کی جبکہ فورم آف انفارمیشن گروپ سیکرٹریز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفقت جلیل نے انتظامی امور کی نگرانی کی۔
سیمینار میں ارکان پارلیمنٹ، انفارمیشن گروپ کے افسران، سول سرونٹس، سفارت کاروں اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔





اپنی رائے دیں