سپین میں بدھ کے روز پیش آنے والے ایک المناک ٹرین حادثے نے ملک کے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے، جس سے 29 نومبر کو ہونے والے قبل از وقت انتخابات کی انتخابی مہم پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس حادثے میں 69 افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد حکمران سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کو اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔
یہ حادثہ بدھ کی صبح 8 بج کر 53 منٹ پر دارالحکومت میڈرڈ کے قریب ٹولیڈو کے نزدیک پیش آیا، جہاں میڈرڈ سے سیویلا جانے والی ایک تیز رفتار ٹرین اسی ٹریک پر کھڑی ایک دوسری ٹرین سے جا ٹکرائی۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں اس کی وجہ ایل زیڈ بی (LZB) ٹرین کنٹرول سسٹم میں خرابی بتائی گئی ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوئنٹے نے ریلوے نظام کو محفوظ اور قابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حادثہ تکنیکی خرابی اور انسانی غلطی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، سابقہ حکام اور ناقدین نے ریلوے انفراسٹرکچر کی جدید کاری کی رفتار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی (PP) کے رہنما البرٹو نونیز فیجو نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے اور اپنی انتخابی مہم کو دو روز کے لیے معطل کر دیا ہے۔ دوسری جانب دائیں بازو کی جماعت ووکس (Vox) کے رہنما سینٹیاگو اباسکال نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرانسپورٹ کی وزارت کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا، جس سے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کی انتخابی مہم کو دھچکا لگا ہے۔ قبل ازیں حکمران جماعت ہاؤسنگ بحران اور سماجی پالیسیوں کو اپنی مہم کا مرکزی نقطہ بنائے ہوئے تھی، تاہم اب سکیورٹی اور انفراسٹرکچر کے معاملات بحث کا محور بن گئے ہیں۔




اپنی رائے دیں