مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 1:58
بریکنگ
ڈیرہ اسماعیل خان: کواڈ کاپٹر گرنے سے بچہ جاں بحق، ماں اور بھائی زخمیپاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعاتکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین کی ویکسینیشن معطل، کاؤنٹر ہٹا دیا گیاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارپاکستان نیوی کی ایتھلیٹ امتل رحمان کا اولمپکس میں شرکت کا عزمپاکستان میں ذہنی صحت کا بڑھتا ہوا بحران: سماجی رویوں میں تبدیلی ناگزیربنگلا دیشی انڈر 18 کرکٹر مہدی حسن ہردوئے کینسر کے باعث انتقال کر گئےپولیو کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سندھصدر آصف زرداری کا جرمنی کا کامیاب دورہ مکمل، صحت کے شعبے میں تعاون پر اتفاقامریکی اور اسرائیلی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا خدشہروس اور یوکرین کا الیوشکی میں انسانی امداد کیلئے عارضی جنگ بندی پر اتفاقاینڈرائیڈ فونز میں 2027 کی اپ ڈیٹ تاریخ: صارفین پریشان نہ ہوںستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟مصطفیٰ کمال کی ایم کیو ایم کارکنان کو ہر طرح سے تیار رہنے کی ہدایتمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: خلیجی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور آئی ایم ایف کے خدشاتفرانس میں مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات کیخلاف مظاہرے، 70 ہزار اہلکار تعیناتحکومت کا عمومی سبسڈی ختم کر کے ہدفی سبسڈی دینے کا فیصلہ: وزیر خزانہپنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی وجوہات سامنے آ گئیںپی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا میں تنظیمی امور کیلئے متبادل انتظام کا فیصلہپاکستان میں فلو ویکسین کی قلت، وفاقی وزیر نے ڈریپ کو قیمتوں پر نظرثانی کا حکم دے دیا
دنیا

امریکی اور اسرائیلی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا خدشہ

امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

امریکی اور اسرائیلی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا خدشہ

عالمی میڈیا میں گردش کرنے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل میں ہونے والے اہم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد خطے کی صورتحال میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں جن میں ووٹرز اپنے اگلے وزیراعظم کا انتخاب کریں گے۔ اس کے بعد 3 نومبر کو امریکا میں مڈٹرم انتخابات ہوں گے، جن میں ایوان نمائندگان، سینیٹ کی نشستوں اور متعدد ریاستوں میں گورنرز کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی بڑی کارروائی کا امکان 3 نومبر کے امریکی انتخابات سے قبل انتہائی کم ہے۔ ریپبلکن پارٹی کو خدشہ ہے کہ جنگی حالات کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

امریکا میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کا براہِ راست اثر انتخابی مہم پر پڑ رہا ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی دستے اور طیارہ بردار بحری بیڑے روانہ کر چکے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر تعینات عملے کی تعداد میں بھی مبینہ طور پر کمی کی گئی ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں ماضی میں ایرانی جوابی حملوں کے باعث نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ اقدام ممکنہ بڑے تصادم کی تیاریوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام تر اشارے اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ خطے میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر فضائی بمباری کا امکان بھی شامل ہے۔ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ماہر علی واعظ کے مطابق، ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں ایران کے ساتھ جنگ کو اپنی داخلی سیاسی مشکلات سے نکلنے کا ایک ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ حکمت عملی ان کے سیاسی مستقبل کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس جنگ کا مقصد سیاسی ساکھ کو بچانا ہو، وہی جنگ بالآخر ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔

امریکی صدر نے ماضی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ جنگ کے مزید پھیلنے کے آثار نے عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کی نظریں اب 27 اکتوبر اور 3 نومبر کے انتخابات پر مرکوز ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج ہی طے کریں گے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا گراف کس سمت جائے گا اور کیا عالمی طاقتیں سفارتکاری کا راستہ اپنائیں گی یا نہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتا ہے۔ تیل کی سپلائی لائنوں اور تجارتی راستوں پر اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ مسلسل موجود ہے۔

امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے ریپبلکن پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں ایران کے خلاف کسی بھی غیر محتاط قدم سے گریز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ووٹرز کی ناراضگی سے بچا جا سکے۔

مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے کو ایک اور بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں