پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل ایک خاموش بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس پر اب قومی سطح پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی ایک بڑی آبادی کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا شکار ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ اب محض انفرادی نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بن چکا ہے۔
ملک کے پہلے قومی سطح کے ذہنی صحت کے سروے کے مطابق 32 فیصد بالغ افراد ذہنی عوارض کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 38 فیصد افراد زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسے مسائل سے گزرے ہیں، جبکہ چھ فیصد نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران خودکشی کے خیالات آنے کی اطلاع دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کو جسمانی بیماریوں کی طرح تسلیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اکثر اوقات معاشرتی دباؤ اور بدنامی کے خوف سے لوگ اپنی ذہنی کیفیت کو چھپاتے ہیں، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ڈپریشن اور اضطراب کو محض 'زیادہ سوچنے' کا نام دینا ایک غلط فہمی ہے جو مریض کو تنہائی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
ذہنی دباؤ کی وجوہات میں معاشی مشکلات، بے روزگاری، سماجی عدم تحفظ اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی شامل ہیں۔ جب افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے ہیں، تو اس کے جذباتی اثرات ان کی ذہنی صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم، موروثی اور حیاتیاتی عوامل بھی ذہنی عوارض میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
معاشرے میں ذہنی بیماریوں سے وابستہ شرمندگی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بہت سے افراد اس خوف سے ماہرِ نفسیات سے رجوع نہیں کرتے کہ انہیں 'پاگل' قرار دیا جائے گا یا ان کے خاندان کی عزت پر سوال اٹھیں گے۔ یہ رویہ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ہے جو اپنی بات کہنے سے ڈرتے ہیں۔
والدین اور خاندانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنی ناکامیوں اور پریشانیوں کے بارے میں بلا جھجک بات کر سکیں۔ اکثر اوقات کسی کی بات کو توجہ سے سننا ہی مدد کی پہلی سیڑھی ثابت ہوتا ہے۔ جذباتی تعاون اور احترام پر مبنی خاندانی تعلقات ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
خواتین اور بزرگوں کی ذہنی صحت بھی خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ، معاشی انحصار، تشدد اور سماجی پابندیاں خواتین کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ دوسری جانب بزرگوں کے لیے تنہائی، جسمانی کمزوری اور اپنوں سے دوری ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے، جس کے لیے جذباتی تعاون ناگزیر ہے۔
حکومتی سطح پر بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں ذہنی امراض کے ماہرین کی تعداد بڑھانا اور علاج کو عام آدمی کے لیے قابلِ رسائی بنانا ناگزیر ہے۔ کم آمدنی والے افراد کے لیے علاج کی سہولیات کو بہتر بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہیے۔
تعلیمی اداروں میں مشاورت کی سہولیات فراہم کرنا اور اساتذہ کو بچوں میں ذہنی پریشانی کی علامات پہچاننے کی تربیت دینا ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ کام کی جگہوں پر ہراسانی، غیر ضروری دباؤ اور تذلیل کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے سے بھی ملازمین کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ذرائع ابلاغ اور سماجی اداروں کا کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ ذہنی بیماریوں سے متعلق درست معلومات کی فراہمی سے معاشرتی رویوں میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ جب لوگ علامات کو سمجھیں گے، تو وہ بروقت مدد حاصل کرنے کی طرف مائل ہوں گے، جس سے خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ہماری کامیابی کے پیمانے بھی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دولت، عہدے اور سماجی حیثیت کو ہی کامیابی کا معیار سمجھنے سے انسان کی جذباتی کیفیت نظر انداز ہو جاتی ہے۔ مردوں کو جذبات چھپانے اور خواتین کو اپنی ضروریات قربان کرنے کا درس دینا ہماری سماجی ساخت کا ایک کمزور پہلو ہے جسے تبدیل کرنا ہوگا۔
ذہنی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے انفرادی کوششوں کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پر پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ قومی سروے کے نتائج کو محض اعداد و شمار کے طور پر دیکھنے کے بجائے، انہیں علاج کی سہولیات کی بہتری اور مستقبل کی تحقیق کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ایک صحت مند معاشرے کی پہچان صرف اس کی بلند و بالا عمارتیں یا معاشی ترقی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے افراد کتنی پرسکون اور باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ ذہنی صحت کی حفاظت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، لیکن اس کی تکمیل کے لیے ریاست اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر مسکراتا ہوا چہرہ اندرونی سکون کی علامت نہیں ہوتا۔ خاموشی ہمیشہ اطمینان کی نشانی نہیں بلکہ بعض اوقات یہ مدد کی ایک پکار ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے تعصبات کو ترک کر کے ایک دوسرے کے لیے سہارا بننا ہوگا تاکہ ایک بہتر اور صحت مند معاشرے کی تعمیر ممکن ہو سکے۔





اپنی رائے دیں