کراچی میں منعقدہ 54 ویں قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں پاکستان نیوی کی نمائندگی کرنے والی ایتھلیٹ امتل رحمان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار گولڈ میڈلز اور ایک برانز میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔ اس کامیابی کے بعد اب ان کی نظریں اولمپک مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر مرکوز ہیں۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے ٹارٹن ٹریک پر منعقدہ مقابلوں کے دوران امتل رحمان نے خواتین کی لانگ جمپ، ہائی جمپ، ٹریپل جمپ اور پینٹاتھلون کے مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس کے علاوہ وہ 4 ضرب 100 میٹر مکسڈ ریلے میں برانز میڈل جیتنے والی پاکستان نیوی کی ٹیم کا بھی حصہ رہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چنیوٹ سے تعلق رکھنے والی امتل رحمان نے اپنے عزم کا اظہار کیا کہ وہ اگلے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مصروف ہیں۔
امتل رحمان نے اپنی کامیابی کا سہرا پاکستان نیوی کی جانب سے فراہم کردہ بہترین سہولیات اور اپنے کوچ عبدالمجید کی تربیت کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوچ کی زیر نگرانی ملنے والی تکنیکی رہنمائی نے انہیں قومی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے میں مدد فراہم کی ہے۔
لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کی طالبہ امتل رحمان نے مزید کہا کہ نو برس کے طویل وقفے کے بعد کراچی میں ہونے والی اس چیمپئن شپ کے انتظامات انتہائی عمدہ تھے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ملک بھر کے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع ملا۔
اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آنے والے مقابلوں میں اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ جلد ہی قومی ریکارڈز قائم کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گی۔
پاکستان نیوی کی جانب سے کھیلوں کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارے کی جانب سے ملنے والی حوصلہ افزائی ہی ان کی کامیابی کی بنیاد ہے۔ وہ مسلسل پریکٹس کے ذریعے اپنی فٹنس اور تکنیک کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے پرعزم ہیں۔
قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں امتل رحمان کی یہ کارکردگی نہ صرف ان کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ یہ دیگر نوجوان خواتین کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ ان کی کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ مناسب سہولیات اور محنت کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر نام پیدا کیا جا سکتا ہے۔
ایتھلیٹکس کے حلقوں میں امتل رحمان کی اس کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر انہیں اسی طرح کی تربیت اور مواقع ملتے رہے تو وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید اعزازات جیت سکتی ہیں۔ ان کی توجہ اب اپنی تکنیک کو مزید بہتر بنانے پر ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں جاری اس چیمپئن شپ میں ملک بھر سے ایتھلیٹس نے شرکت کی اور مختلف مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ امتل رحمان کا شمار ان ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جو پاکستان کا نام عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان نیوی کی جانب سے کھیلوں کے میدان میں اس طرح کی کامیابیوں کا تسلسل اس بات کا غماز ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ امتل رحمان جیسے کھلاڑیوں کو اگر حکومتی اور نجی سطح پر مزید سپورٹ ملے تو وہ اولمپکس جیسے بڑے ایونٹس میں پاکستان کے لیے میڈل جیت سکتے ہیں۔
امتل رحمان کا اگلا ہدف قومی ریکارڈز کو توڑنا ہے جس کے لیے وہ اپنی ٹریننگ کے معمولات میں مزید سختی لا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اولمپکس میں شرکت کا خواب صرف ایک خواہش نہیں بلکہ ایک مشن ہے جس کے لیے وہ ہر ممکن قربانی دینے کو تیار ہیں۔
خواتین ایتھلیٹس کے لیے پاکستان میں کھیلوں کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور امتل رحمان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ عزم اور مستقل مزاجی سے کسی بھی ہدف کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی کامیابی پر پاکستان نیوی کے حکام نے بھی انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔




اپنی رائے دیں