صدر مملکت آصف علی زرداری جرمنی کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ برلن ایئرپورٹ پر اعلیٰ جرمن حکام اور جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر سلمان شریف نے صدر مملکت کو الوداع کیا۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔
اپنے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری نے جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ یہ دورہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے تعطل کے بعد ہوا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور خیرسگالی کے نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔
برلن میں قیام کے دوران صدر مملکت کی سیمنز ہیلتھ کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈینیئل فریش اور شعبہ حکومتی امور کی سربراہ ویرونیکا فسٹر سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان کے شعبہ صحت میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جرمن وفد نے پاکستان کے شعبہ صحت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وفد نے صدر مملکت کو بتایا کہ ان کے نمائندے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ صحت کی صنعت میں استعداد کار بڑھانے اور تکنیکی معاونت کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کریں گے۔
صدر آصف علی زرداری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سیمنز جیسے اداروں کے تکنیکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں صحت کی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تحقیق اور ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ معیاری اور سستی صحت کی سہولیات ہر شہری تک پہنچائی جائیں، بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والے محروم طبقات کو ان سہولیات سے مستفید کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے سیمنز کی جانب سے پاکستان میں برسوں سے جاری خدمات کو سراہا۔
سیمنز کے وفد نے کینسر، فالج اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے جدید تکنیکی حل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے کیے گئے منظم اقدامات کی تعریف کی اور پاکستان میں اپنے جاری منصوبوں کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔
صدر زرداری نے تجویز دی کہ سیمنز اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے دیگر صنعتی اور سماجی شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کو متنوع بنائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل ادارہ جاتی تعاون کا یقین دلایا۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، صوبائی وزراء شرجیل میمن اور جام خان شورو بھی موجود تھے۔ وفد نے صدر مملکت کو پاکستان میں کمپنی کی کامیابیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔
سیمنز کمپنی کئی دہائیوں سے پاکستان میں فعال ہے اور کراچی سمیت ملک کے تین بڑے شہروں میں اس کے 100 سے زائد ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ تعاون پاکستان کے صنعتی اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
صدر مملکت کے اس دورے کو پاکستان اور جرمنی کے درمیان معاشی اور سفارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں صحت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
جرمن قیادت کی جانب سے صدر زرداری کا پرتپاک استقبال دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل میں باہمی روابط کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ عوامی سطح پر بھی تعلقات کو فروغ مل سکے۔
اس دورے کے دوران ہونے والی بات چیت سے یہ واضح ہوا ہے کہ پاکستان اپنی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔





اپنی رائے دیں