نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ترجمان نے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ کے دوران شہریوں کے شناختی کارڈ کے حصول کے عمل میں لگنے والے وقت اور جانچ پڑتال کے طریقہ کار کے حوالے سے اہم وضاحتیں پیش کی ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ نادرا کے پاس شہریوں کا وسیع ڈیٹا موجود ہونے کے باوجود بعض درخواستوں کی جانچ پڑتال میں وقت اس لیے لگتا ہے کیونکہ ہر کیس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے اور درستگی کو یقینی بنانا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔
خصوصاً ایسے بزرگ افراد جو اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا دفاتر کا رخ کرتے ہیں، ان کی تصدیق کا عمل نسبتاً طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ ان کا خاندانی ریکارڈ نادرا کے موجودہ نظام سے منسلک کرنا ہوتا ہے۔
نادرا افسران کے لیے یہ لازمی ہوتا ہے کہ وہ درخواست گزار کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کے ساتھ ساتھ اس کے خاندانی شجرے کا درست تعین کریں، تاکہ ڈیٹا بیس میں کسی بھی قسم کی غلطی یا خامی کی گنجائش نہ رہے۔
اس عمل کے دوران افسران صرف موجودہ دستاویزات پر ہی انحصار نہیں کرتے بلکہ ضرورت پڑنے پر پرانے سرکاری ریکارڈز اور ماضی کے دستی شناختی کارڈز کے ریکارڈ سے بھی مدد لی جاتی ہے تاکہ شناخت کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ نادرا کے قیام سے قبل شناختی کارڈز کے اجرا کا ایک روایتی اور دستی نظام رائج تھا، جس میں شہریوں کا ڈیٹا محفوظ کیا جاتا تھا اور آج بھی پرانے ریکارڈز کی تلاش میں وقت درکار ہوتا ہے۔
بعض اوقات پرانے ریکارڈز کی تصدیق اور ان کا موجودہ ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے ساتھ موازنہ کرنے میں ایک سے دو دن یا اس سے زائد کا وقت بھی لگ سکتا ہے، جس کا مقصد درخواست گزار کی شناخت کو ہر لحاظ سے مستند بنانا ہے۔
ادارے کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شناختی کارڈ کا اجرا ایک انتہائی حساس عمل ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہوتی، کیونکہ یہ دستاویز کسی بھی شہری کی قانونی شناخت کا بنیادی ذریعہ ہے۔
نادرا کا موجودہ نظام جدید خطوط پر استوار ہے، تاہم خاندانی تعلقات اور شہریت کی تصدیق کے لیے جو قانونی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں، ان کے باعث درخواست کے عمل کو مکمل ہونے میں وقت لگنا ایک معمول کی بات ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی درخواست جمع کروانے کے بعد نادرا کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات کے ذریعے اپنے کیس کا اسٹیٹس آن لائن چیک کرتے رہیں۔
نادرا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم وقت میں شناختی کارڈ کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
ادارے کی جانب سے اس وضاحت کا مقصد شہریوں میں پائے جانے والے تحفظات کو دور کرنا ہے تاکہ وہ نادرا کی جانب سے اپنائے گئے جانچ پڑتال کے عمل کی اہمیت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔





اپنی رائے دیں