مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:58
بریکنگ
پاک چین دوستی کے 75 برس، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کل پاکستان پہنچیں گیملک بھر میں ایل پی جی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہافغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہڈیرہ اسماعیل خان: کواڈ کاپٹر گرنے سے بچہ جاں بحق، ماں اور بھائی زخمیپاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعاتکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین کی ویکسینیشن معطل، کاؤنٹر ہٹا دیا گیاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارمشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان سمیت 8 ممالک کا سفارتی حل پر اتفاقوزیراعظم شہباز شریف کا دورہ روس متوقع، صدر پوتن سے اہم ملاقات کا امکانمتحدہ عرب امارات کی جانب سے لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل کے لیے نامزدملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ، عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہبیرون ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے سرکاری پورٹل فعالاروناچل پردیش: انڈین اور چینی افواج کے درمیان سرحدی ٹکراؤ کا اعترافبرطانیہ میں پاکستانی نژاد سرجن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیاایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ روس، ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات متوقعاسرائیل کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا خدشہ، نیتن یاہو کی کرپٹو کرنسی کے استعمال پر زورنادرا میں شناختی کارڈ کی تصدیق میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ ترجمان نے وضاحت کر دیپھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت، موت کا خطرہ نصف سے کمایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی چیف جسٹس سے ملاقاتپاکستان نیوی کی ایتھلیٹ امتل رحمان کا اولمپکس میں شرکت کا عزم
صحت

برطانیہ میں پاکستانی نژاد سرجن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیا

ڈاکٹر آصف حسن نے تین دہائیوں تک بچوں کے دل کے پیچیدہ آپریشنز اور پیوندکاری کے ذریعے ہزاروں زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

برطانیہ میں پاکستانی نژاد سرجن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیا

برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر آصف حسن کو طب کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں 2026 کے پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں بچوں کے دل کی سرجری میں تین دہائیوں پر محیط ان کی انتھک محنت کے صلے میں دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر آصف حسن نے اپنے طویل کیریئر کے دوران ایسے بچوں کے علاج کے لیے خود کو وقف کیے رکھا جو پیدائشی قلبی نقائص کا شکار تھے۔ انہوں نے نیو کیسل کے فری مین اسپتال میں بچوں کے دل کی سرجری کے شعبے کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔

اپنے طبی سفر کے دوران ڈاکٹر آصف حسن نے تقریباً 400 ہارٹ ٹرانسپلانٹس کیے۔ انہوں نے بچوں کو دل کی پیوندکاری تک زندہ رکھنے کے لیے 'برج ٹو ٹرانسپلانٹ' پروگرام میں کلیدی کردار ادا کیا، جس میں برلن ہارٹ میکانکی پمپ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر آصف حسن کی طبی جدت طرازیوں میں 'بوٹ لیس کلوزر' کا طریقہ کار بھی شامل ہے، جس کے ذریعے آپریشن کے بعد سینے کی ہڈی کو بند کرنے کا عمل آسان اور محفوظ بنایا گیا۔ اس تکنیک نے ان بچوں کے لیے بھی علاج کی راہیں کھولیں جن کے سینے میں پیچیدگیوں کا خدشہ تھا۔

فری مین اسپتال میں ڈاکٹر آصف حسن کی ٹیم ان پیچیدہ کیسز کو بھی قبول کرتی تھی جنہیں دیگر طبی مراکز خطرے کے پیش نظر لینے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے زیرِ علاج رہنے والے بچوں میں میکس جانسن اور سیسیلیا ادامو جیسے مریض شامل ہیں، جو ماضی میں پرائیڈ آف برٹین کے 'چلڈرن آف کوریج' ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر آصف حسن کا ماننا ہے کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی صرف آپریشن کرنا نہیں بلکہ سرجنز کی ایک ایسی نئی نسل تیار کرنا ہے جو ان کے بعد بھی بچوں کی بہترین طبی نگہداشت کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔ انہوں نے تربیت کے عمل کو ہمیشہ اپنی ترجیح رکھا۔

اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنی ٹیم اور برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے عملے کو دیتے ہوئے ڈاکٹر آصف حسن نے کہا کہ ان کے کیریئر میں خوشی اور غم کے کئی لمحات آئے۔ انہوں نے ان مریضوں کو بھی دیکھا جنہیں بچایا نہ جا سکا، تاہم کامیاب سرجریز نے ہمیشہ انہیں حوصلہ دیا۔

ڈاکٹر آصف حسن نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ ان کے تیار کردہ سرجنز اب دنیا بھر میں بچوں کی زندگیاں بچانے کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک ڈاکٹر کے لیے اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ہو سکتی کہ اس کا کام اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہے۔

پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز کی جانب سے یہ اعزاز ان کی انسانیت دوستی اور اس عزم کا اعتراف ہے جس کے تحت انہوں نے تین دہائیوں تک ہزاروں خاندانوں کو امید کی نئی کرن فراہم کی۔

ڈاکٹر آصف حسن کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر ہے، کیونکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی مہارت اور محنت سے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ان کی زندگی کا یہ سفر آنے والے طبی ماہرین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔

ان کی خدمات کا دائرہ کار صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بچوں کے دل کے سرجنز کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی لگن نے طب کے شعبے میں جدید علاج کے نئے معیارات قائم کیے ہیں۔

ڈاکٹر آصف حسن نے اپنے پیغام میں کہا کہ طبی عملے کی قربانیوں کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔ انہوں نے نرسز اور دیگر معاون عملے کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔

یہ ایوارڈ ان تمام خاندانوں کی دعاؤں کا بھی اعتراف ہے جن کے بچوں کو ڈاکٹر آصف حسن نے نئی زندگی دی۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا کام ان کی تیار کردہ ٹیم کے ذریعے جاری رہے گا، جو ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں