اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے ملک کو مستقبل میں شدید عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومتی مشیروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متبادل مالیاتی راستے تلاش کریں۔
نیتن یاہو کے مطابق، اسرائیل کو ایسی معاشی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی بینکاری نظام پر انحصار کم کر سکے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ سمیت دنیا کے 12 ممالک نے مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق بعض مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان پابندیوں کا ہدف بظاہر مخصوص آبادیاں ہیں، تاہم ان کے اثرات اسرائیل کی مجموعی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی اسرائیل کے لیے معاشی مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
نیتن یاہو نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکا کی جانب سے ملنے والی اربوں ڈالر کی دفاعی امداد ہمیشہ برقرار رہنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں اس امداد میں کمی کا امکان موجود ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائیر لاپڈ نے حکومت کی موجودہ پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے اسرائیل عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے جس کا خمیازہ عوام کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائیر گولان نے مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل کو اپنی عالمی ساکھ بحال کرنے کے لیے فلسطینیوں کے خلاف جاری تشدد کو روکنا ہوگا۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہی معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔
کرپٹو کرنسی کے استعمال کے حوالے سے ماہرینِ معاشیات نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی ادائیگیوں کے متبادل راستے فراہم کر سکتی ہے، تاہم یہ مکمل طور پر بین الاقوامی پابندیوں سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
متعدد بلاک چین نیٹ ورکس پر ہونے والی لین دین کا سراغ لگانا ممکن ہے، جس کی وجہ سے بینکوں اور ڈیجیٹل کرنسی پلیٹ فارمز پر پابندیوں کے اثرات برقرار رہ سکتے ہیں۔ خود اسرائیلی حکام کے ایک حلقے نے بھی اس تجویز کو غیر مؤثر قرار دیا ہے۔
اسرائیلی اقتصادی عہدیداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی جیسے منصوبوں پر عوامی سطح پر بحث کرنے سے ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ اقدام عالمی برادری میں اسرائیل کے اعتماد کو مزید مجروح کر سکتا ہے۔
وزیراعظم نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں اسرائیل کو خود انحصار بننے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
عالمی مبصرین اس صورتحال کو اسرائیل کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر عالمی برادری کا دباؤ اسرائیل کے لیے مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اسرائیلی حکومت اپنی معاشی پالیسیوں میں کس حد تک تبدیلی لاتی ہے۔ فی الحال، نیتن یاہو کی جانب سے کرپٹو کرنسی کا ذکر عالمی سطح پر اسرائیل کی معاشی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔





اپنی رائے دیں