مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
ملک بھر میں ایل پی جی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہافغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہڈیرہ اسماعیل خان: کواڈ کاپٹر گرنے سے بچہ جاں بحق، ماں اور بھائی زخمیپاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعاتکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین کی ویکسینیشن معطل، کاؤنٹر ہٹا دیا گیاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ روس، ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات متوقعاسرائیل کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا خدشہ، نیتن یاہو کی کرپٹو کرنسی کے استعمال پر زورنادرا میں شناختی کارڈ کی تصدیق میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ ترجمان نے وضاحت کر دیپھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت، موت کا خطرہ نصف سے کمایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی چیف جسٹس سے ملاقاتپاکستان نیوی کی ایتھلیٹ امتل رحمان کا اولمپکس میں شرکت کا عزمپاکستان میں ذہنی صحت کا بڑھتا ہوا بحران: سماجی رویوں میں تبدیلی ناگزیربنگلا دیشی انڈر 18 کرکٹر مہدی حسن ہردوئے کینسر کے باعث انتقال کر گئےپولیو کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سندھصدر آصف زرداری کا جرمنی کا کامیاب دورہ مکمل، صحت کے شعبے میں تعاون پر اتفاقامریکی اور اسرائیلی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا خدشہروس اور یوکرین کا الیوشکی میں انسانی امداد کیلئے عارضی جنگ بندی پر اتفاقاینڈرائیڈ فونز میں 2027 کی اپ ڈیٹ تاریخ: صارفین پریشان نہ ہوںستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟
پاکستان بریکنگ نیوز

افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہ

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابلِ قبول ہے، ٹھوس اقدامات کے بغیر امن ممکن نہیں۔

افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہ

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان سے وابستہ گروہوں سمیت دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہر قسم کی چشم پوشی، سہولت کاری اور حمایت کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔

حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر الزام تراشی سے وہ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے سکیورٹی خدشات محض قیاس آرائیاں نہیں بلکہ دستاویزی شواہد پر مبنی ہیں۔

وزارتِ اطلاعات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ (S/2025/796) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جانب سے جنوری تا مارچ 2026ء کے دوران 'آپریشن اینڈیورنگ سینٹینل' سے متعلق امریکی کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے رہے، جس سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد چار سے چھ ہزار بتائی گئی ہے۔ یہ جائزے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مسلح دہشت گردوں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی مسلسل کوششیں، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاکتیں اور دہشت گرد عناصر سے غیر ملکی ساخت کے اسلحے کی برآمدگی، ایسے معاملات ہیں جن کی سنجیدہ جانچ پڑتال ضروری ہے۔

پاکستان نے قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان حکام کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان خدشات کو محض تردید کے ذریعے مسترد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان پر قابلِ اعتماد وضاحت اور قابلِ تصدیق عملی اقدامات ضروری ہیں۔

وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردی کے خطرات ہیں، افغان عوام نہیں۔ دونوں ممالک کا امن و استحکام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دہشت گردی سے پاک خطہ دونوں کے مفاد میں ہے۔

حکومتی بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات اور ضروری دفاعی اقدامات کو افغانستان کے خلاف دشمنی قرار دینے سے نہ اصل مسئلہ حل ہوگا اور نہ ہی اس سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

پاکستان باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، معاون نیٹ ورکس اور سرحد پار دراندازی کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بدستور تیار ہے۔

افغان طالبان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تیاری یا عمل درآمد کے لیے استعمال نہ ہو۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب افغان طالبان حکومت افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے بنیادی خدشات کو قابلِ تصدیق عملی اقدامات کے ذریعے دور کرے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں