انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں انڈین اور چینی افواج کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات کے بعد اب سرکاری سطح پر اس کی تصدیق سامنے آ گئی ہے۔ انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد مقامات پر دونوں ممالک کی افواج کا ٹکراؤ ہوا ہے اور بعض علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
راجستھان میں اپنی فورس کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ٹی بی پی کے سربراہ نے کہا کہ اروناچل پردیش میں کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے جن کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں ٹکراؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس صورتحال سے نمٹنے میں اپنی فورس کی 'شوریہ کمانڈو' ٹیموں کی مثالی کارکردگی کو سراہا اور مستقبل میں ان کی ایک مکمل بٹالین تشکیل دینے کا عندیہ دیا۔
سرحدی صورتحال پر قابو پانے کے لیے انڈین حکام نے اروناچل پردیش کے مختلف سرحدی مقامات پر بڑی تعداد میں فورسز تعینات کر دی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، جولائی کے مہینے سے ہی تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کے علاقے میں دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے موجود تھیں، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
رپورٹس کے مطابق، جولائی میں ماجا کے مقام پر دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا، جس کے بعد چینی پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکار بڑی تعداد میں دوبارہ پہنچے اور تقریباً چھ سے سات کلومیٹر اندر اس علاقے میں خیمے نصب کر لیے، جسے انڈیا اپنا علاقہ تصور کرتا ہے۔ یہ کشیدگی برکس سربراہی اجلاس کے دوران بھی برقرار رہی۔
مقامی ذرائع اور آل اروناچل پردیش سٹوڈنٹس یونین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے نزدیک چینی افواج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں مقامی آبادی کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی فوج کی نقل و حرکت اور پابندیوں کے باعث مقامی افراد کو اپنی روایتی چراگاہوں اور شکارگاہوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یونین کے رابطہ سیکریٹری چوکی راجہ ہیکی نے بتایا کہ انتہائی دشوار گزار اور گھنے جنگلات سے گھرے ان دور دراز علاقوں سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ چینی فوج وہاں سرگرم ہے اور انہوں نے وہاں سڑکیں اور فوجی تنصیبات بھی تعمیر کر لی ہیں جو کہ مقامی لوگوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔
آئی ٹی بی پی کے سربراہ شتروجیت کپور نے جدید جنگی تقاضوں کے پیش نظر ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں روایتی جنگی انداز تبدیل ہو چکا ہے اور ڈرونز کی مدد سے چھوٹے ممالک بھی بڑے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اسی لیے فورس کے بجٹ کا 70 فیصد حصہ ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
کپور نے مزید کہا کہ ہر بٹالین میں ایک ڈرون پلاٹون قائم کرنے کا منصوبہ ہے کیونکہ چین کا روایتی انداز میں مقابلہ کرنا اب مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ پیپلز لبریشن آرمی نے اپنی صلاحیت میں اضافے اور جدت کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل استعمال کیے ہیں۔ انہوں نے روس، یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگ کا انداز بدل دیا ہے۔
دوسری جانب انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس اور دیگر جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت قومی سلامتی کے اس اہم معاملے پر پارلیمنٹ میں حقائق واضح کرے اور عوام کو اعتماد میں لے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ سرحد پر پیش آنے والے واقعات کو چھپانے کے بجائے مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے۔
کانگریس کے سینیئر رہنما سلمان خورشید نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بیان دے اور بحث کرائے تاکہ ایک مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔ شیو سینا کی رہنما پریانکا چترویدی نے بھی اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ سے جواب طلب کیا ہے۔
کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے چین سے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سرحدی کشیدگی کے باوجود چین کے ساتھ بڑھتے اقتصادی روابط کس قسم کی قوم پرستی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نعروں کی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے سوال پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں پیچیدگیاں تب پیدا ہوتی ہیں جب گشت کے دوران طے شدہ حدود سے انحراف کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سفارتی اور فوجی نظام کے تحت غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اروناچل پردیش کا شمار انڈیا کی حساس ریاستوں میں ہوتا ہے، جس پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے اور اسے جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ماضی میں کئی بار کور کمانڈر سطح کے مذاکرات ہو چکے ہیں، تاہم سرحدی تنازعات کا مکمل حل تاحال ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔
سرحدی کشیدگی کے ان واقعات نے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر جاری یہ کشیدگی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات اور اقتصادی روابط پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جس کے لیے مستقل بنیادوں پر مذاکرات ناگزیر ہیں۔





اپنی رائے دیں