سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا جلد روس کا دورہ متوقع ہے جس کے دوران وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اعلیٰ سطحی ملاقات کریں گے۔ اس اہم دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنما پاکستان اور روس کے مابین تجارتی حجم میں اضافے، توانائی کے شعبے میں تعاون اور تیل و گیس کی فراہمی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
پاکستان سٹیل ملز کی بحالی اور جدید کاری کے لیے روسی تعاون حاصل کرنا بھی اس دورے کے اہم ایجنڈے میں شامل ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں بھی باہمی اشتراک عمل کو بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔
اقتصادی روابط کو مستحکم کرنے کے لیے بینکاری اور مالیاتی لین دین میں سہولتوں کی فراہمی پر بھی بات ہوگی۔ تجارتی ادائیگیوں کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت متوقع ہے۔
علاقائی صورتحال بالخصوص افغانستان کی موجودہ صورتحال اور جنوبی و وسطی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کے حوالے سے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال ہوگا۔ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق رائے متوقع ہے۔
وزیراعظم کے دورے کے موقع پر پاکستان روس بزنس فورم کے انعقاد کا بھی قوی امکان ہے جس میں پاکستان سے تقریباً 100 کاروباری شخصیات اور مختلف کمپنیوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس فورم کا مقصد دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دینا ہے۔
پاکستانی کاروباری وفد میں ٹیکسٹائل، زراعت، خوراک، ادویات اور توانائی کے شعبوں سے وابستہ اہم کمپنیاں شامل ہوں گی۔ بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کے ذریعے مشترکہ سرمایہ کاری اور نئے کاروباری مواقع تلاش کرنے پر توجہ دی جائے گی تاکہ تجارتی شراکت داری کو عملی شکل دی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے اس دورے میں سابقہ طے شدہ پروگرام کے اہم حصوں کو برقرار رکھا جائے گا۔ اس سے قبل بھی ایک بڑے کاروباری وفد کے ہمراہ دورے کا منصوبہ تھا تاہم کچھ وجوہات کی بنا پر اسے ملتوی کر دیا گیا تھا، اب اسے نئے سرے سے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کے دوران روس میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ اس نشست میں طلبہ کے تعلیمی تجربات، ان کے مسائل اور پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی و ثقافتی تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی جائے گی۔
متوقع دورے کے دوران وزیراعظم کے روس کے تاریخی اور ثقافتی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک روزہ دورے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک تجارت، توانائی اور صنعتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں تاکہ خطے میں اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھل سکیں۔
وزیراعظم کا یہ مجوزہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے جس سے سیاسی روابط مضبوط ہوں گے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے جو خطے کے لیے بھی سودمند ثابت ہوں گے۔
تاہم وزیراعظم کے دورے کی حتمی تاریخوں، وفد کی مکمل تشکیل اور ملاقاتوں کے تفصیلی پروگرام کا باضابطہ اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ متعلقہ وزارتیں اور سفارتی حکام اس حوالے سے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف عمل ہیں۔





اپنی رائے دیں