مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:16
بریکنگ
پاک چین دوستی کے 75 برس، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کل پاکستان پہنچیں گیملک بھر میں ایل پی جی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہافغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہڈیرہ اسماعیل خان: کواڈ کاپٹر گرنے سے بچہ جاں بحق، ماں اور بھائی زخمیپاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعاتکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین کی ویکسینیشن معطل، کاؤنٹر ہٹا دیا گیاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارناسا کی جانب سے انتہائی سرد موسم میں کارآمد جدید بیٹری تیارمشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان سمیت 8 ممالک کا سفارتی حل پر اتفاقوزیراعظم شہباز شریف کا دورہ روس متوقع، صدر پوتن سے اہم ملاقات کا امکانمتحدہ عرب امارات کی جانب سے لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل کے لیے نامزدملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ، عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہبیرون ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے سرکاری پورٹل فعالاروناچل پردیش: انڈین اور چینی افواج کے درمیان سرحدی ٹکراؤ کا اعترافبرطانیہ میں پاکستانی نژاد سرجن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیاایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ روس، ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات متوقعاسرائیل کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا خدشہ، نیتن یاہو کی کرپٹو کرنسی کے استعمال پر زورنادرا میں شناختی کارڈ کی تصدیق میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ ترجمان نے وضاحت کر دیپھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت، موت کا خطرہ نصف سے کمایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی چیف جسٹس سے ملاقات
پاکستان

ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ، عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ضروری اشیاء کی قیمتوں میں 5.81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ، عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ

پاکستان میں جاری مالی سال 2026-27 کے آغاز سے اب تک مہنگائی کی لہر نے عام آدمی کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوران ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2 جولائی سے 22 اکتوبر تک 51 ضروری اشیاء پر مشتمل حساس قیمتوں کے اشاریے میں 5.81 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے کے دوران اشاریہ 354.24 پوائنٹس سے بڑھ کر 374.84 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا ہے جو معاشی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

مہنگائی کی اس لہر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بنیادی محرک ثابت ہوا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نئے مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں پٹرول کی قیمت میں 26.11 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 26.39 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہ راست ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور مال برداری کے اخراجات پر مرتب ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زرعی اجناس کی نقل و حمل مہنگی ہو گئی ہے جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

صرف گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.65 فیصد کا مزید اضافہ ہوا ہے۔ اگر گزشتہ سال کے اسی عرصے سے موازنہ کیا جائے تو مہنگائی کی مجموعی شرح 11.85 فیصد زیادہ رہی ہے جو کہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے تشویشناک ہے۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق زیر جائزہ ہفتے کے دوران 51 ضروری اشیاء میں سے 19 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں ایل پی جی کی قیمت میں 22.44 فیصد، مرغی کے گوشت میں 12.20 فیصد اور پیاز کی قیمت میں 4.19 فیصد اضافہ نمایاں رہا ہے۔

آٹے کی قیمت میں بھی ایک فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، تمام اشیاء کی قیمتوں میں یکساں اضافہ نہیں ہوا بلکہ مارکیٹ میں کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے جس میں انڈے اور کچھ سبزیاں شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 12 اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ 20 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ یہ ملا جلا رجحان مارکیٹ کے حالات کو ظاہر کرتا ہے جہاں سپلائی اور ڈیمانڈ کے مطابق قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث تنخواہ دار طبقے، پنشنرز اور دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے گھریلو اخراجات کو متوازن رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ محدود آمدنی والے خاندانوں کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست ملکی معیشت اور عام آدمی کی قوت خرید پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے مختلف اقدامات زیر غور ہیں تاکہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے۔

حکومت نے حالیہ پالیسی فیصلوں میں عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد براہ راست مستحق افراد تک ریلیف پہنچانا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

دوسری جانب زرعی شعبے میں بھی پیداواری لاگت بڑھنے سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر دباؤ ہے۔ گندم کی امدادی قیمتوں کے تعین اور دیگر زرعی پالیسیوں کے ذریعے حکومت غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

مستقبل کے حوالے سے معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور ملکی معاشی اصلاحات کے نتائج مہنگائی کی شرح پر اثر انداز ہوں گے۔ عوام کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں میں استحکام آئے گا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں