ترکیہ کے شہر استنبول میں ایک اہم سفارتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس اجلاس میں ’آر فور‘ (R4) گروپ کے رکن ممالک اور چار یورپی طاقتوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل ’آر فور‘ (R4) گروپ کے وزرائے خارجہ کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا جس میں علاقائی اور یورپی ممالک نے مشترکہ طور پر خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں غزہ کی صورتحال، اسرائیل فلسطین تنازع، امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع، اور سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے خطے میں قیام امن کے لیے ٹھوس اقدامات پر اتفاق کیا۔
اجلاس کے دوران عالمی بحری گزرگاہوں کی سلامتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ اسود میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو عالمی تجارت، جہاز رانی کی آزادی اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان راستوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کے موقع پر اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال، فلسطین اور علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی تنازعات کے سکیورٹی، معیشت اور تجارت پر مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔
پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی دیرپا امن کا قیام ممکن ہے اور پاکستان اس سلسلے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اجلاس میں شریک ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ تنازعات کی روک تھام اور خطے میں امن و استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے اسی فارمیٹ میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
عالمی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ مختلف ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا سفارتی محاذ پر ایک مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جبکہ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے۔ ان راستوں میں عدم تحفظ سے تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل، عالمی سپلائی چین، جہاز رانی کے اخراجات اور توانائی کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ آٹھوں ممالک خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی اقدامات میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
پاکستان کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت اور فعال کردار ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد علاقائی مسائل کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔





اپنی رائے دیں