پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار چار ملکی وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے شہر استنبول روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ دورہ ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد خطے میں سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کے علاوہ ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ اس فورم کو 'ریجنل فور' کا نام دیا گیا ہے جو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
اس اجلاس کا بنیادی مقصد تعمیری سفارت کاری کو فروغ دینا اور علاقائی تعاون کے ذریعے درپیش تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔ پاکستان اس فورم کے ذریعے اپنے دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی تشکیل دینے کا خواہاں ہے۔
ریجنل فور کے اجلاس کے بعد ایک اور اہم نشست کا انعقاد کیا جائے گا جس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی شامل ہوں گے۔ یہ 'ریجنل فور پلس ای تھری' فارمیٹ میں سات ممالک کا اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہوگا جس میں عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
اس دورے کے دوران نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اپنے ہم منصب وزرائے خارجہ کے ساتھ علیحدہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا تاکہ سفارتی روابط کو مزید گہرا کیا جا سکے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن اور استحکام کا حامی رہا ہے اور اس طرح کے فورمز میں شرکت پاکستان کے اسی عزم کا اعادہ ہے۔ حکومت پاکستان کا ماننا ہے کہ باہمی مشاورت سے ہی خطے کو درپیش مشکلات کا حل ممکن ہے۔
اجلاس میں شریک ممالک کے وزرائے خارجہ موجودہ عالمی صورتحال اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظرنامے پر بھی غور کریں گے۔ اس کے علاوہ معاشی تعاون اور سیکیورٹی کے امور پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے تاکہ ایک مستحکم علاقائی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکے۔
اسحاق ڈار کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت کو سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ فورم مستقبل میں اہم فیصلوں کا مرکز بن سکتا ہے۔
ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ تمام شریک ممالک کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اس سے قبل بھی پاکستان نے علاقائی امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں شریک ممالک کی جانب سے علاقائی امن، خوشحالی اور باہمی احترام کے اصولوں پر کاربند رہنے کا اعادہ کیا جائے گا۔ یہ اعلامیہ مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے ایک روڈ میپ ثابت ہو سکتا ہے۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اپنی واپسی پر اعلیٰ قیادت کو اس دورے کے نتائج اور شریک ممالک کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ اس دورے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مزید تقویت ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق اس طرح کے کثیر الجہتی فورمز پاکستان کے لیے اپنی بات کو عالمی سطح پر پہنچانے اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ پاکستان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عالمی برادری میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
استنبول میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے بعد پاکستان کی جانب سے مزید سفارتی اقدامات متوقع ہیں۔ حکومت پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں