مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 12 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 1:19
بریکنگ
راولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجوفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہدہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 7 غیر ملکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰلاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیابلوچستان کے علاقے دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈکراچی: آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی 13 سالہ بچی کو بازیاب کر لیا گیالاہور: مزنگ میں اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتارگوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی خطرات میں اضافہامریکا کا کینیڈا پر وسط مدتی انتخابات میں مداخلت کا الزامکراچی: ڈارک ویب کے خطرناک ٹاسک میں پھنسی 13 سالہ بچی بازیابجماعت اسلامی کا آج ملک بھر کے 150 شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا اعلانکراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات، ایک شخص جاں بحق اور 3 خواتین زخمیسعودی عرب: دمام ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئیٹام کروز کو امریکن فلم انسٹیٹیوٹ کے لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا جائے گاعثمان خواجہ کا اپنے نام سے منسوب جعلی سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت ردعملاوپن مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاریپاکستان بیت المال کا فاٹا یونیورسٹی کے 50 مستحق طلبہ کو اسکالرشپ دینے کا فیصلہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ٹیم نے زخموں کی ویڈیو جاری کر دی
پاکستان

لاہور: مرغی کے گوشت اور انڈوں کی سرکاری نرخوں سے زائد پر فروخت جاری

شہریوں کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

لاہور: مرغی کے گوشت اور انڈوں کی سرکاری نرخوں سے زائد پر فروخت جاری

لاہور شہر میں مرغی کے گوشت اور انڈوں کی سرکاری نرخ نامے کے برعکس زائد قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر عمل درآمد کروانے میں تاحال ناکامی دیکھی جا رہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت 577 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم پرچون مارکیٹ میں یہ گوشت 585 سے 590 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں سرکاری ریٹ کے مقابلے میں 10 سے 15 روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

صرف مرغی کا گوشت ہی نہیں بلکہ بیف اور مٹن کی قیمتیں بھی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ بلند سطح پر برقرار ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں چھوٹا گوشت 2400 سے 2800 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اس کی سرکاری قیمت 1600 روپے فی کلو مقرر ہے۔

اسی طرح بیف کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سرکاری ریٹ 800 روپے فی کلو ہے، وہاں قصاب اسے 1000 سے 1200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گوشت اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

فارمی انڈوں کی قیمتوں کا حال بھی مختلف نہیں ہے، جہاں انتظامیہ نے انڈوں کا سرکاری ریٹ 267 روپے فی درجن مقرر کیا ہے، وہیں مارکیٹ میں یہ 270 سے 275 روپے فی درجن تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ قیمتوں میں اس تفاوت نے عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔

مہنگائی کے اس دور میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ عام شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی چین اور مارکیٹ مانیٹرنگ کے نظام میں بہتری لائے بغیر قیمتوں کو سرکاری ریٹ پر لانا ممکن نہیں ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں اور زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔

دوسری جانب دکانداروں کا موقف ہے کہ انہیں ہول سیل مارکیٹ سے ہی مہنگا مال مل رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ سرکاری ریٹ پر فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال میں عام شہری پس کر رہ گیا ہے جو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ اپنی رٹ قائم کرے اور قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ٹھوس اور دیرپا پالیسیاں مرتب کرے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں قیمتوں کا فرق بھی دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کچھ دکاندار سرکاری ریٹ کی پاسداری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں اکثریت من مانی قیمتیں وصول کر رہی ہے۔ اس عدم توازن نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لے گی اور مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے گی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی، تب تک زائد قیمتوں کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوگا۔

آنے والے دنوں میں اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو عام آدمی کے لیے گوشت اور انڈے جیسی بنیادی غذائی اشیاء خریدنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بھی اس صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں