لاہور شہر میں مرغی کے گوشت اور انڈوں کی سرکاری نرخ نامے کے برعکس زائد قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر عمل درآمد کروانے میں تاحال ناکامی دیکھی جا رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت 577 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم پرچون مارکیٹ میں یہ گوشت 585 سے 590 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں سرکاری ریٹ کے مقابلے میں 10 سے 15 روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
صرف مرغی کا گوشت ہی نہیں بلکہ بیف اور مٹن کی قیمتیں بھی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ بلند سطح پر برقرار ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں چھوٹا گوشت 2400 سے 2800 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اس کی سرکاری قیمت 1600 روپے فی کلو مقرر ہے۔
اسی طرح بیف کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سرکاری ریٹ 800 روپے فی کلو ہے، وہاں قصاب اسے 1000 سے 1200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گوشت اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
فارمی انڈوں کی قیمتوں کا حال بھی مختلف نہیں ہے، جہاں انتظامیہ نے انڈوں کا سرکاری ریٹ 267 روپے فی درجن مقرر کیا ہے، وہیں مارکیٹ میں یہ 270 سے 275 روپے فی درجن تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ قیمتوں میں اس تفاوت نے عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔
مہنگائی کے اس دور میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ عام شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی چین اور مارکیٹ مانیٹرنگ کے نظام میں بہتری لائے بغیر قیمتوں کو سرکاری ریٹ پر لانا ممکن نہیں ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں اور زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔
دوسری جانب دکانداروں کا موقف ہے کہ انہیں ہول سیل مارکیٹ سے ہی مہنگا مال مل رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ سرکاری ریٹ پر فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال میں عام شہری پس کر رہ گیا ہے جو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ اپنی رٹ قائم کرے اور قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ٹھوس اور دیرپا پالیسیاں مرتب کرے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں قیمتوں کا فرق بھی دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کچھ دکاندار سرکاری ریٹ کی پاسداری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں اکثریت من مانی قیمتیں وصول کر رہی ہے۔ اس عدم توازن نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لے گی اور مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے گی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی، تب تک زائد قیمتوں کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوگا۔
آنے والے دنوں میں اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو عام آدمی کے لیے گوشت اور انڈے جیسی بنیادی غذائی اشیاء خریدنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بھی اس صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔





اپنی رائے دیں