مواد پر جائیں
جمعہ، 6 نومبر 2026 26 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
پشاور میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحقایبٹ آباد اور دریا خان میں ٹریفک حادثات، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمیپشاور سے لاہور براہِ راست فضائی سروس 9 نومبر سے شروع کرنے کا اعلانڈیوون کون وے بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز سے باہر، نک کیلی شاملایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائرپشاور ہائیکورٹ میں لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سال کرنے کی درخواستمرتضیٰ وہاب جعلی مئیر اور پیپلزپارٹی کا نظام فراڈ ہے: حافظ نعیم الرحمٰنامریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد عالمی ٹیک حصص میں شدید مندی کا رجحانآسٹریلوی کرکٹر کرس لِن نے پابندی کی مدت مکمل کر لیجنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ملر پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو سے محروم رہےسعودی عرب کی حوثیوں سے خفیہ ڈیل اور اربوں ڈالر کے مطالبات کی تردیدروس کے صدر پیوٹن اور ایرانی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کی ماسکو میں ملاقاتبابا گرو ناناک کے 557 ویں جنم دن پر پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول دیراولپنڈی ٹیسٹ میچ کے ٹکٹوں کی فروخت کا باضابطہ آغازآسٹریلیا نے مائیک ہسی کو اہم عالمی مقابلوں کے لیے کنسلٹنٹ کوچ مقرر کر دیاایبٹ آباد: ہزارہ موٹروے پر بس اور ڈمپر کے تصادم میں 7 افراد جاں بحقکراچی: نیو کراچی پاور ہاؤس چورنگی کے قریب اسکول وین الٹنے سے چار بچے زخمیپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، کے ایس ای-100 انڈیکس میں 2200 سے زائد پوائنٹس کی کمیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اوول آفس کو قومی یادگار قرار دینے کا حکمامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی ایلچی سے ملاقات، یوکرین معاہدے کی امید
دنیا

آرمینیا ایران کی سلامتی کیخلاف کوئی اقدام نہیں کرے گا: عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران اپنے خطے میں غیر ملکی موجودگی پر گہری تشویش رکھتا ہے اور ہمسایہ ممالک سے رابطے میں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آرمینیا کی جانب سے ایران کی قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کا اقدام اٹھانے کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو اپنے ہمسایہ ملک پر مکمل اعتماد ہے۔

عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے قریبی خطے میں کسی بھی غیر ملکی یا امریکی موجودگی پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی استحکام کے لیے بیرونی مداخلت کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے اور ایران اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ تہران اور یریوان کے درمیان قریبی سفارتی رابطے قائم ہیں۔ ان رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر مسلسل تبادلہ خیال کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی غلط فہمی کو دور کیا جا سکے۔

عباس عراقچی کے مطابق آرمینیائی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایران کی سلامتی کے مفادات کے مطابق رہیں گے۔ یہ سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

ایران اور آرمینیا کے درمیان تاریخی طور پر دوستانہ تعلقات رہے ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ سکیورٹی کے معاملات پر دونوں جانب سے اعتماد کا اظہار ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سکیورٹی کے معاملات پر براہ راست رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ علاقائی ممالک کے درمیان تعاون ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کسی مخصوص واقعے کا ذکر نہیں کیا تاہم انہوں نے مجموعی علاقائی سکیورٹی کے تناظر میں یہ بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہو۔

تہران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں مختلف عالمی طاقتوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ خطے کے معاملات میں بیرونی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ امن برقرار رہے۔

آرمینیا کے ساتھ ایران کے تعلقات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور ثقافتی روابط موجود ہیں۔ سکیورٹی کے حوالے سے یہ یقین دہانی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گی۔

ایران کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں اکثر اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ تہران اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔ عباس عراقچی کا حالیہ بیان اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔

علاقائی سکیورٹی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ براہ راست رابطے رکھنا ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔ اس سے نہ صرف غلط فہمیوں کا امکان کم ہوتا ہے بلکہ خطے میں استحکام بھی پیدا ہوتا ہے۔

آئندہ دنوں میں ایران اور آرمینیا کے درمیان مزید اعلیٰ سطحی رابطوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان ملاقاتوں میں سکیورٹی کے علاوہ اقتصادی تعاون اور تجارتی روابط کو بڑھانے پر بھی بات چیت متوقع ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں