روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے درمیان ماسکو کے سینیٹ پیلس میں ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات کے امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے کے مطابق اس ملاقات کے دوران محسن رضائی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک خط بھی پہنچایا۔
ایرانی سکیورٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس دورے کا فیصلہ تقریباً ایک ماہ قبل کیا گیا تھا لیکن خطے میں جاری فوجی صورتحال کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا تھا۔
محسن رضائی نے بتایا کہ سپریم لیڈر چاہتے تھے کہ یہ پیغام جتنی جلدی ممکن ہو روسی صدر تک پہنچایا جائے تاہم خط کی تفصیلات کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔
ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ روسی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا بنیادی محور جنگ کے بعد کے ادوار اور خطے کے لیے سکیورٹی کے انتظامات تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو گہرا کرنے بشمول روس سے ایران تک گیس پائپ لائنز کی تعمیر کے منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔
محسن رضائی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے روسی صدر کو اکتوبر کے آخر میں تہران میں ایران، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ہونے والے اجلاس کے بارے میں بریفنگ دی، جسے روسی رہنما نے خوش آمدید کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ چینی دوستوں کی طرح ہمارا بھی یہ ماننا ہے کہ علاقائی انتظامات ہونے چاہئیں اور غیر ملکی ممالک کو خطے کی سکیورٹی میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
دوسری جانب محسن رضائی نے کہا کہ تہران اس وقت تک امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر مذاکرات نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن اس کے سات مطالبات پورے نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ سفارتی معاملے پر ہم نے امریکیوں کو سات شرائط بتا دی ہیں اور جب تک وہ ان پر عمل نہیں کرتے، ہم نہ تو آبنائے ہرمز کھولیں گے اور نہ ہی مذاکرات ہوں گے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس ملاقات کے دوران ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس تنازع کے خاتمے کے لیے مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
گزشتہ ماہ بھی روسی صدر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے کہا تھا کہ روس اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے تیار ہے۔
روسی خبر رساں اداروں کے مطابق کریملن نے سینیٹ پیلس میں ہونے والی اس ملاقات کا فوری طور پر اپنا کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
اسی تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کویت، سعودی عرب، عمان، قطر، ترکی اور اردن کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطے کیے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان رابطوں کا محور علاقائی پیش رفت اور امن کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششیں تھیں۔
روس اور ایران کے درمیان، جو دونوں سخت مغربی پابندیوں کے تحت ہیں، حالیہ برسوں میں اپنے سفارتی اور فوجی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔
جنوری 2025 میں انہوں نے تجارت، فوجی تعاون، سائنس، ثقافت اور تعلیم کا احاطہ کرنے والے ایک جامع تزویراتی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
ہفتے کے روز ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا کہ ایران نے روس کے ایس یو پینتیس لڑاکا طیارے خرید لیے ہیں اور جنگ ختم ہونے کے بعد انہیں حاصل کرنے کی توقع ہے۔


اپنی رائے دیں