آسٹریلیا کے معروف کرکٹر کرس لِن نے کوکین کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد عائد کردہ پابندی کی مدت مکمل کر لی ہے۔ یہ بات ملک کے کرکٹ ریگولیٹر کی جانب سے جمعرات کے روز بتائی گئی۔
چھتیس سالہ کھلاڑی نے انگلینڈ کے ڈومیسٹک ٹوئنٹی ٹوئنٹی مقابلے کے دوران اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ میں حصہ لیا تھا۔ اس دوران ان کا ٹیسٹ مثبت پایا گیا جس کے بعد ان پر تادیبی کارروائی عمل میں آئی۔
کوکین کا یہ ٹیسٹ اس سال اٹھارہ جولائی کو ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ فائنلز ڈے کے موقع پر لیا گیا تھا۔ اس روز کرس لِن کی ٹیم نارتھمپٹن شائر نے ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
ٹیسٹ کا نتیجہ آنے کے بعد کرس لِن کو اکتیس جولائی کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ معطلی کے اس دورانیے کے دوران انہوں نے پندرہ جولائی کے آس پاس کے دنوں میں کوکین کے استعمال کا اعتراف بھی کیا تھا۔
کرکٹ ریگولیٹر کے مطابق اس معاملے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی جو اب پوری ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ انگلینڈ میں ہونے والے مقامی کرکٹ میچوں کے دوران پیش آیا۔
کرس لِن آسٹریلیا کے ٹی ٹوئنٹی اور بگ بیش لیگ کے نامور کھلاڑی مانے جاتے ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی کارکردگی طویل عرصے تک نمایاں رہی ہے۔
اس معاملے پر کرکٹ حلقوں میں مختلف تبصرے کیے گئے ہیں تاہم کھلاڑی کی جانب سے پابندی کی مدت کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے۔ ریگولیٹری ادارے نے اس ضمن میں مزید تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔
کھیلوں میں ڈوپنگ کے خلاف سخت قوانین کے تحت کھلاڑیوں کے رینڈم ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ اینٹی ڈوپنگ ایجنسیوں کا مقصد کھیلوں کے مقابلوں کو شفاف رکھنا ہے۔
کرس لِن کے اس واقعے نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ بھی حاصل کی تھی۔ کرکٹ بورڈز کی جانب سے ایسے معاملات میں قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
مداحوں اور کھلاڑیوں کے لیے اس نوعیت کے واقعات سے ایک کڑا پیغام جاتا ہے۔ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آئندہ آنے والے مقابلوں کے لیے کرس لِن اب دوبارہ میدان میں اترنے کے اہل ہو چکے ہیں۔ پابندی کے خاتمے کے بعد ان کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔




اپنی رائے دیں