امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے جمعرات کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خصوصی ایلچی کے ساتھ ایک نجی ملاقات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے بعد یوکرین کے تنازع کے حل کے لیے ایک معاہدہ جلد سامنے آنے کا قوی امکان موجود ہے۔
یہ ملاقات دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے بعد عمل میں آئی۔
روسی ایلچی نے اس تقریب میں یوکرین کے نمائندوں کے ساتھ شرکت کی تھی۔
اس تقریب کا اہتمام امریکی خاتون اول میل ان یہ ٹرمپ نے کیا تھا جہاں دونوں ممالک کے نمائندے موجود تھے۔
امریکی صدر نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ روسی صدر کے ایلچی کریل دمتریف کے ساتھ ہونے والی اس بات چیت میں کن امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتی ہیں۔
تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سفارتی پیشرفت سے یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
اس سلسلے میں اب آئندہ کی سفارتی کوششوں کا بھی شیڈول طے کر لیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی وفد رواں ماہ دس اور گیارہ نومبر کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ثالثی کے فرائض انجام دینے کے لیے مذاکرات میں حصہ لے گا۔
اس سے قبل واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کو انتہائی اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ کے تناظر میں یہ ملاقات بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہے۔
امریکی انتظامیہ اس تنازع کے پرامن حل کے لیے مختلف سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
آئندہ چند روز میں ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے فریقین کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
امریکہ کی زیر قیادت ہونے والے ان مذاکرات میں جنگ بندی اور دیگر اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔



اپنی رائے دیں