خیبر پختونخوا میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 16 سال کے بجائے 18 سال مقرر کرنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں ایک نئی آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ اس قانونی چارہ جوئی کا مقصد صوبے میں شادی کی عمر کے موجودہ قانون کو چیلنج کرنا ہے۔
یہ اہم آئینی درخواست لینا قمر اور ماہم نفیس کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں نے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کیا ہے۔
اس قانونی کارروائی میں انہوں نے معروف وکیل عمران ایڈووکیٹ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ وکیل کی وساطت سے یہ پٹیشن باضابطہ طور پر عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔
دائر کردہ اس آئینی درخواست میں کئی اہم سرکاری اداروں اور شخصیات کو فریق بنایا گیا ہے۔
فریقین میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور سیکرٹری قانون سمیت دیگر متعلقہ حکام کو شامل کیا گیا ہے۔
درخواست میں بنیادی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ملک کی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔
اس آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد وفاق یعنی اسلام آباد نے قانون میں ضروری ترامیم کی ہیں۔
وفاق کے علاوہ ملک کے دیگر تمام صوبوں نے بھی اپنی سطح پر قوانین میں ترامیم مکمل کر لی ہیں۔
اس کے برعکس خیبر پختونخوا وہ صوبہ ہے جہاں صورتحال اب بھی مختلف دکھائی دیتی ہے۔
اس فرسودہ قانون کی وجہ سے صوبے بھر میں متعدد منفی اثرات سامنے آرہے ہیں۔
درخواست میں وضاحت کی گئی ہے کہ کم عمری کی شادیوں کی وجہ سے کمسن بچیوں کو شدید نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان مسائل میں خاص طور پر بچیوں کی صحت اور ان کی تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
صحت اور تعلیم کے علاوہ اس طرح کے فیصلوں سے سنگین خاندانی مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
معاشرے میں بڑھتے ہوئے ان خاندانی تنازعات کا براہ راست اثر کمسن بچیوں کی زندگی پر پڑتا ہے۔
مذکورہ بالا تمام وجوہات کی بنا پر درخواست میں عدالت عالیہ سے ایک خاص استدعا کی گئی ہے۔
استدعا میں پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ شادی کی قانونی عمر 16 سال کے بجائے بڑھا کر 18 سال مقرر کی جائے۔
اس عدالتی اقدام سے صوبے میں موجود دیگر قوانین کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی۔


اپنی رائے دیں