جمعہ کے روز کراچی کے علاقے نیو کراچی میں پاور ہاؤس چورنگی پل کے قریب ایک اسکول وین بے قابو ہو کر سڑک پر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار معصوم بچے زخمی ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ اسکول وین کی انتہائی تیز رفتار ہونے کی وجہ سے پیش آیا، جس نے ٹریفک کے اصولوں اور حفاظتی تدابیر پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ دیے ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو حکام اور پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کی زد میں آنے والے چاروں بچوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اسپتال ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ زخمی بچوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
اس دردناک حادثے کے نتیجے میں اسکول وین کو شدید نوعیت کا نقصان پہنچا ہے اور گاڑی کا اگلا حصہ اور دیگر حصے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
شہرِ قائد میں گزشتہ دو روز کے دوران اسکول وین کو پیش آنے والا یہ تیسرا حادثہ ہے، جس سے اسکول کے بچوں کے سفری امور میں حفاظتی صورتحال واضح ہوتی ہے۔
ان مسلسل حادثات کی وجہ سے بچوں کے والدین اور متعلقہ تعلیمی و سماجی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جمعرات کے روز بھی کراچی کے مصروف ترین مقام شارع فیصل پر ایک اور اسکول وین حادثے کا شکار ہوئی تھی۔
شارع فیصل پر ناتھا خان پل کے قریب پیش آنے والے اس پچھلے واقعے میں ایک ریوو ڈالے کی غفلت کے باعث کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئی تھیں۔
جمعرات کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں وین ڈرائیور کی بروقت اور بہترین حاضر دماغی کی بدولت بچے معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔
شارع فیصل والے حادثے کی شکار وین میں دو سال سے لے کر آٹھ سال تک کے چھوٹے بچے اور بچیاں سوار تھے۔
اس پچھلے واقعے کے بعد خوفزدہ ماحول کی وجہ سے معصوم بچوں نے بری طرح رونا شروع کر دیا تھا اور وہ شدید خوف میں مبتلا ہو گئے تھے۔
شہر میں بڑھتے ہوئے اسکول وینز کے حادثات کے بعد اب شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے اور ٹریفک پولیس اسکول بچوں کو لے جانے والی گاڑیوں کی فٹنس اور رفتار پر کڑی نظر رکھیں۔
اسکول وینز کے ڈرائیوروں کی غفلت اور تیز رفتاری کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
ابتدائی تحقیقات اور پولیس حکام کی جانب سے حادثے کی مزید وجوہات جاننے کے لیے کارروائی کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور خامیوں کو دور کیا جا سکے۔



اپنی رائے دیں