جنوبی افریقہ کے محدود اوورز کے ماہر بلے باز ڈیوڈ ملر پاکستان کے دورے پر اپنے طویل انتظار کے بعد ٹیسٹ ڈیبیو کرنے کے قریب تھے، تاہم ایک ناگہانی چوٹ نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔
جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ شوکری کونراڈ نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تجربہ کار مڈل آرڈر بلے باز کو پاکستان کی کنڈیشنز میں شامل کرنے کا خصوصی منصوبہ بنایا گیا تھا۔
شوکری کونراڈ کے مطابق ڈیوڈ ملر کو ٹیم میں شامل کرنے کا مقصد پاکستانی ٹیم کے تجربہ کار اسپنر نعمان علی کی گیند بازی کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا تھا۔
ہیڈ کوچ نے برصغیر کے دوروں کے لیے اپنی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسپن بولنگ کے خلاف بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کی موجودگی ٹیم کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوتی ہے۔
ان کا ماننا تھا کہ ایک متوازن بائیں ہاتھ کا بیٹنگ کمبی نیشن نعمان علی اور بھارت کے رویندرا جدیجا جیسے اسپنرز کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
کوچ نے انکشاف کیا کہ تمام تیاریاں مکمل تھیں اور ملر پاکستان کے خلاف اس دورے کے دوران ٹیسٹ کیپ پہننے کے لیے بالکل تیار تھے۔
سیریز کے آغاز سے بالکل پہلے پیش آنے والی انجری نے ان کے تمام ارادوں پر پانی پھیر دیا، جس کے باعث وہ اسکواڈ کا حصہ بننے سے قاصر رہے۔
ڈیوڈ ملر نے مئی 2010ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف محدود اوورز کی سیریز سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا تھا، جس میں انہوں نے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچز کھیلے۔
انہوں نے اب تک اپنے طویل کیریئر میں 180 ایک روزہ میچوں میں 42.90 کی اوسط سے 4,762 رنز بنائے ہیں، جن میں آٹھ سنچریاں اور 24 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ملر نے 140 میچوں میں 33.78 کی اوسط اور 141.40 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 2,804 رنز اسکور کیے ہیں، اور اس فارمیٹ میں ان کی دو سنچریاں بھی درج ہیں۔
وہ طویل عرصے سے جنوبی افریقی ٹیم کے اہم ترین فنشرز میں شمار ہوتے رہے ہیں اور دباؤ کے لمحات میں ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے سے قبل ڈیوڈ ملر نے 63 فرسٹ کلاس میچ کھیل رکھے ہیں، جن میں انہوں نے 36.32 کی اوسط سے 3,342 رنز بنائے۔
ستمبر 2018ء میں انہوں نے وائٹ بال کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھنے اور اپنا کیریئر بڑھانے کے لیے باضابطہ طور پر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے سے معذرت کر لی تھی۔




اپنی رائے دیں