مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر 2026 24 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
امریکی وسطی مدتی انتخابات میں خلاء سے بھی ووٹ کاسٹ کیے گئےنیوزی لینڈ کے اوپنر ڈی ون کون وے بھارت کے خلاف پہلے ون ڈے سے باہرپی سی بی کا مرکزی کنٹریکٹ تنخواہوں کو ڈومیسٹک کرکٹ سے مشروط کرنے کا فیصلہڈسکہ میں شادی کی تقریب میں بھگدڑ کا واقعہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹک ٹاکر ان سر محمود کو حفاظتی ضمانت دے دیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں برس کے آخر میں اسرائیل کو امداد بند کرنے کا اعلانامریکا سال کے آخر میں اسرائیل کی سالانہ چار ارب ڈالر امداد بند کر دے گاامریکہ میں وسطی مدتی انتخابات، کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ آجسپین: دورانِ میچ گول کیپر سے تصادم کے بعد ٹینریف کا فٹبالر جاں بحقورلڈ ایتھلیٹکس ایوارڈز: جوش کیر اور سبسٹین سا وے مومنٹ آف دی ایئر کے لیے نامزدامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ فی الحال دور کی بات ہےمیل نیا ٹرمپ روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی وائٹ ہاؤس میں کریں گیسکیورٹی خدشات اور حملوں کے باعث 2027 کا ایشیائی کپ ملتویعطا تارڑ اور سعودی سفیر کی ملاقات، سعودی عرب میں پاکستانی ڈرامے متعارف کرانے پر اتفاقپٹرولیم ڈیلرز کا ریفائنریوں کے منافع کا فارنسک آڈٹ کرانے کا مطالبہشکاگو بیئرز نے شاندار کارکردگی سے سیٹل سیہاکس کو شکست دیشاہ رخ خان کی فلم ’کنگ‘ نے ریلیز سے پہلے ہی 665 کروڑ روپے کما لیےدنیا بھر میں یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے، پی ٹی اےپولیس سے جھگڑے کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی ضمانت منظورکراچی پورٹ کو جدید بنانے کے منصوبوں پر کام تیز، نئی ٹیکنالوجی کا استعمالاوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن کے ملازمین کو حکومت کی اعلان کردہ تنخواہ سے بھی کم معاوضہ ملنے کا انکشاف
سائنس و ٹیکنالوجی

جرمنی میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویز

جرمن کابینہ نے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل نیٹ ورکس پر نئی پابندیوں اور پالیسی رہنما خطوط کی منظوری دے دی۔

یورپ کے اہم ملک جرمنی میں بچوں اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جرمن کابینہ نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے غور شروع کر دیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد یورپی قوانین کے نفاذ تک بچوں کو آن لائن ماحول میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ فیصلہ ایک آزاد ماہر کمیشن کی جانب سے پیش کردہ 56 سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل ٹولز کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

نئے مجوزہ قوانین کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کو ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے مقبول سوشل نیٹ ورکس تک رسائی سے روکا جائے گا۔ تاہم، وہ پلیٹ فارمز جو خصوصی طور پر بچوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، ان پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

جرمن وزیر تعلیم اور خاندانی امور کیرن پرین نے اس پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تجزیے کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور حکومت عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں محفوظ بنانا ہے۔

حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ آج کے دور میں نوجوانوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انہیں ڈیجیٹل دنیا میں خود ارادیت کے ساتھ پروان چڑھنے کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ فریم ورک فراہم کیا جائے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت 13 سے 18 سال کے نوعمروں کے لیے بھی عمر کے لحاظ سے الگ حدود مقرر کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بطور ڈیفالٹ نشہ آور یا نقصان دہ مواد کی ترسیل کو بند کریں۔

جرمن حکومت 2027 تک یورپی یونین کے ڈیجیٹل آئیڈینٹیٹی والیٹ کے ذریعے عمر کی تصدیق کا ایک قابل اعتماد نظام متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس نظام کو 'ڈی-یو' (d-you) کا نام دیا گیا ہے، جس سے آن لائن سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات بچوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور انہیں آن لائن دنیا میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ جرمنی کی جانب سے یہ اقدام یورپی سطح پر ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے منظور کردہ رہنما خطوط بچوں کے حقوق اور ان کی ڈیجیٹل شرکت کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد بچوں کو ایک ایسے ماحول میں لانا ہے جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال محفوظ طریقے سے کر سکیں۔

اس پیش رفت کو جرمنی میں بچوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ ان قوانین کے نفاذ سے والدین کو بھی اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے اطمینان حاصل ہوگا۔

جرمن کابینہ کے اس فیصلے کے بعد اب متعلقہ ادارے ان قوانین کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یورپی قوانین کے نفاذ تک یہ قومی سطح پر نافذ العمل رہیں گے تاکہ بچوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچایا جا سکے۔

مستقبل میں ڈیجیٹل دنیا کے بدلتے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پالیسیوں میں مزید بہتری لانے کا بھی امکان ہے۔ جرمنی کا یہ اقدام عالمی سطح پر بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے جاری بحث میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا۔

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں