اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز ٹک ٹاکر ان سر محمود عرف مس پٹلو کو حفاظتی ضمانت دے دی جو قتلِ خطا، غیر قانونی اجتماع، ہنگامہ آرائی اور بھگدڑ کے واقعے میں ایک شخص کی ہلاکت اور دیگر کے زخمی ہونے پر درج مقدمے میں نامزد ہیں۔
ڈسکہ کے فراز گراؤنڈ میں اتوار کے روز ٹک ٹاکر کی شادی کی تقریب میں انعامی قرعہ اندازی کے دوران بھگدڑ مچنے سے دو افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہو گئے تھے۔
عدالت نے ملزم کو 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ان سر محمود کی جانب سے دائر حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار اپنے وکیل بیرسٹر قاسم نواز عباسی کے ہمراہ ویل چیئر پر عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیالکوٹ کے ضلع میں موٹرا پولیس اسٹیشن میں قتلِ خطا، غیر قانونی اجتماع اور ہنگامہ آرائی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے ان سر محمود کو 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت فراہم کر دی۔
اتوار کے روز ان سر محمود کی مہندی کی تقریب کے لیے لوگوں کا ہجوم جمع ہوا تھا جنہوں نے تقریب میں شرکت اور اس کی تشہیر کے لیے کاروں، موٹر سائیکلوں اور نقد انعامات پر مشتمل قرعہ اندازی کا اعلان کیا تھا۔
داخلہ گیٹ پر رش کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی جس کے دوران کئی لوگ زمین پر گر گئے اور روندے گئے۔
بدھا گورایا کا رہائشی عقیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ ابتدائی طور پر 18 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
زخمیوں میں گلوٹیاں کلاں کا رہائشی ریحان بھی شامل تھا جس کی حالت نازک تھی اور اسے لاہور کے میو اسپتال ریفر کیا گیا جہاں وہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا جس سے ہلاکتوں کی تعداد دو ہو گئی جبکہ 17 افراد زخمی ہیں۔
پولیس نے موٹرا پولیس اسٹیشن میں اپنی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 322، 431، 440، 188، 109، 148 اور 149 کے علاوہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 16 کے تحت مقدمہ درج کیا۔
ایف آئی آر میں ان سر محمود، کاشف، گراؤنڈ کے مالک حاجی شاہد جاوید اور دیگر منتظمین دنیال، منیر احمد، محسن علی، ارشاد علی، عبداللہ اور زہیب منشاء سمیت نو افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے میں مزید 40 سے 45 نامعلوم سیکیورٹی گارڈز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔


اپنی رائے دیں