ایشیائی فٹبال کون فیڈریشن نے سعودی عرب میں شیڈول 2027 کے ایشیائی کپ کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایک سال کے قریب ملتوی کر دیا ہے۔
چوبیس ٹیموں پر مشتمل یہ براعظم کا بڑا فٹبال ٹورنامنٹ پہلے جنوری کے مہینے میں شروع ہونا تھا جو اب دسمبر کے آخر میں کھیلا جائے گا۔
کون فیڈریشن کے حکام کے مطابق یہ فیصلہ ٹورنامنٹ کے منتظمین کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت اب یہ مقابلہ اگلے سال تئیس دسمبر سے شروع ہوکر اکیس جنوری دو ہزار اٹھارہ تک جاری رہ سکتا ہے۔
البتہ نئی تاریخوں کے نفاذ کے لیے فیفا کی باضابطہ منظوری لینا ابھی باقی ہے۔
سعودی عرب میں حالیہ سکیورٹی خلل کے واقعات میں اکتوبر کے دوران ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک میزائل حملہ بھی شامل تھا۔
اس حملے کے نتیجے میں تیرہ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین سو سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
یمن سے تعلق رکھنے والے حوثی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس کے بعد سے خطے میں تشویش پائی جاتی ہے۔
خطے کی انھی کشیدہ سرگرمیوں اور سفری رکاوٹوں نے کھیلوں کے کئی بین الاقوامی شیڈول کو متاثر کیا ہے۔
سعودی پرو لیگ نے بھی ایشیائی کپ کی تاریخیں تبدیل ہونے کے بعد اس ہفتے کے اپنے طے شدہ میچز ملتوی کر دیے ہیں۔
لیگ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے سیزن کے باقی ماندہ میچوں کے دوران شیڈول میں مزید توازن پیدا ہوگا۔
سعودی عرب میں منعقد ہونے والا سکس کنگز سلیم ٹینس نمائش کا ایونٹ بھی اکتوبر سے دسمبر تک منتقل کیا جا چکا ہے۔
اس کے علاوہ ایشین ٹور کا سیزن کا آخری گالف ٹورنامنٹ بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے جو اٹھارہ سے اکیس نومبر کے درمیان ہونا تھا۔
دوسری طرف سعودی وزیر نے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں پر سخت ردعمل دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
تاریخوں میں اس تبدیلی کا براہِ راست فائدہ یورپی کلبوں میں کھیلنے والے نمایاں کھلاڑیوں کو بھی پہنچے گا۔
اس سے قبل انگلش اور دیگر یورپی لیگز کے سیزن کے درمیان کھلاڑیوں کو قومی ذمہ داریوں کے لیے طویل غیر حاضری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اب آسٹن ولا کے گول کیپر زیون سوزوکی اور مانچسٹر سٹی کے دفاعی کھلاڑی عبدوکودیر خوسانوف اپنے کلبوں کے لیے دستیاب رہ سکیں گے۔
اسی طرح ہُل سٹی کے دفاعی کھلاڑی لوکاس ہی رنگ ٹن اور دیگر کئی نمایاں فٹبالرز بھی جنوری کی کھینچاتانی سے محفوظ رہیں گے۔
قطر اس براعظم کے ٹورنامنٹ میں بطور دفاعی چیمپئن شرکت کرے گا جس نے پچھلا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 2023 کا ایشیائی کپ بھی کووڈ وباء کے باعث چین سے منتقل کر کے 2024 میں قطر میں کروایا گیا تھا۔
آئی سی سی اور دیگر عالمی اداروں کی طرح ایشیائی فٹبال کون فیڈریشن بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ مستقبل کے انتظامات بہتر بنائے جا سکیں۔
حتمی ڈھانچے اور تاریخوں کی تفصیلات جلد ہی دنیا کی فٹبال کی نگران تنظیم کو ارسال کر دی جائیں گی۔



اپنی رائے دیں