امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن رواں برس کے اختتام پر اسرائیل کو دی جانے والی چار ارب ڈالر کی سالانہ امداد کا سلسلہ بند کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ باہمی مشاورت اور طے شدہ سمجھوتے کے تحت کیا گیا ہے۔
یہ اہم اعلان صدر ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مہینوں پہلے معاہدہ طے پا چکا تھا اور اس سال کے ختم ہونے کے بعد اسرائیل کو مالی رقوم کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ اسرائیل کو اب اس مالی امداد کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل کی کسی اور طریقے سے مدد کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر نے موقف اختیار کیا کہ بعض ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے سیاستدان ریپبلکنز کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے اس مالی امداد کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے وہ مزید تنقید برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں۔
اس حوالے سے دونوں رہنماؤں کے دفاتر یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس امداد کی بندش کا عمل کس طریقہ کار کے تحت انجام پائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل دوطرفہ سمجھوتوں کے تحت سالانہ اربوں ڈالر کی عسکری امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ سنہ دو ہزار بیس میں کانگریس نے اس امداد کی توثیق کی تھی تاہم ہر سال فنڈز کی فراہمی کے لیے کانگریس سے الگ بل منظور کرانا پڑتے ہیں۔
حالیہ برسوں بالخصوص غزہ جنگ کے بعد سے امریکی عوام میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ڈیموکریٹک حلقوں اور ووٹرز کے اندر اسرائیل کو دی جانے والی غیر مشروط امداد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
امریکی ریاست مشی گن کے انتخابی عمل کے دوران بھی اس موضوع پر شدید بحث جاری رہی ہے۔ امیدواروں کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے فنڈز بیرون ملک بھیجنے کے بجائے اندرونِ ملک عوامی فلاح پر خرچ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو بھی ماضی میں اشارہ دے چکے ہیں کہ بدلتے ہوئے امریکی سیاسی حالات کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ کے لیے ملنے والی بھاری امداد کا مستقبل غیر یقینی ہو سکتا ہے۔




اپنی رائے دیں