امریکہ میں وسطی مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، جہاں شہری کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔
یہ انتخابات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے دو سالوں کی کارکردگی پر عوامی رائے کا احاطہ کرتے ہیں۔
مختلف مبصرین اور سروے رپورٹس کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب، سینیٹ پر کنٹرول کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
سینیٹ کے لیے یہ انتخابی جنگ تقریباً دس انتہائی حریف ریاستوں میں لڑی جا رہی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ مانے جانے والے خطوں سے ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو عام طور پر امریکی صدر کی اپنی جماعت کو وسطی مدتی انتخابی عمل کے دوران کانگریس میں نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
امریکہ بھر کے پولنگ مراکز پر ووٹرز کی کثیر تعداد موجود ہے جو ملکی معیشت، پالیسیوں اور حکومتی امور پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئی تھیں۔
ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور امیدوار موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں جبکہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں تبدیلی کی خواہاں ہیں۔
شہری ملکی داخلی امور، افراطِ زر، روزگار اور دیگر اہم معاشی اشاریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
ریاستی سطح پر سینیٹ کی نشستوں کے نتائج اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آئندہ پارلیمانی ایوانوں میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی۔
انتخابی عمل کو شفاف اور پُرامن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ووٹرز کی بڑی تعداد اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے صبح سے ہی پولنگ سٹیشنز کے باہر قطاروں میں کھڑی نظر آئی۔
حتمی نتائج پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کے مراحل کے ساتھ ہی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔





اپنی رائے دیں