امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کے لیے سالانہ چار ارب ڈالر کی امداد بند کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ فیصلہ مہینوں پہلے طے پا گیا تھا اور اب اسرائیل کو اس فنڈنگ کی مزید ضرورت نہیں رہی ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ کچھ ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے سیاست دان اس امریکی مالی امداد کو ریپبلکنز پر تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے بطور سیاسی حربہ استعمال کر رہے تھے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ سال کے اختتام تک اسرائیل کو مزید ادائیگی نہیں کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر ہی آئندہ مدد کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور یورپ اپنی مرضی کے ہتھیار خرید سکتے ہیں کیونکہ امریکا دنیا کے بہترین ہتھیار تیار کرتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان پر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ بھی تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی صدر کا اشارہ کس مخصوص فنڈنگ کی طرف تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے رواں سال مئی میں ایک انٹرویو کے دوران امید ظاہر کی تھی کہ ایک دہائی کے اندر اسرائیل کا امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ بعد ازاں جون میں ایک امریکی رکنِ کانگریس کو لکھے گئے خط میں نیتن یاہو نے تحریر کیا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل امداد حاصل کرنے والے ملک کے بجائے ایک شراکت دار کا کردار ادا کرے۔
امریکی صدر نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ امریکا دنیا کا مقبول ترین ملک بن چکا ہے جس کا دنیا بھر میں احترام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امریکی ووٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی عظمت اور کامیابی برقرار رکھنے کے لیے ریپبلکنز کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔



اپنی رائے دیں