فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، تعلیمی نظام میں نقائص اور عوامی سہولیات کے فقدان کے خلاف ملک گیر احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے۔ پیرس سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں طلبہ، مزدوروں اور ٹریڈ یونینز کے کارکنوں نے سڑکوں پر نکل کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر فرانسیسی حکام نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار اور جنڈارم تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے پولیس کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جائے اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ حکام کے مطابق ہفتے کی دوپہر تک 135 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں سہولیات کو بہتر بنایا جائے، اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور پنشن کے معاملات میں اصلاحات کی جائیں۔ اس کے علاوہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ بھی ان کے کلیدی مطالبات میں شامل ہے۔
پیرس میں مظاہرین کے مجوزہ راستوں میں پولیس کی جانب سے آخری لمحات میں تبدیلی کے فیصلے پر تنازع پیدا ہوا، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ شہر کے کئی اہم ثقافتی مقامات بشمول لوور میوزیم اور اوپیرا ہاؤس کو احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کر دیا گیا۔
شہر کے 20 سے زائد میٹرو اسٹیشنوں کو بھی عارضی طور پر بند کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔ لیون سمیت دیگر شہروں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔
متعدد شہروں میں احتجاج پر سخت پابندیاں اور اجتماعات کے حوالے سے کڑی شرائط نافذ کی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز نے ان اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پرامن احتجاج کے حق پر قدغن قرار دیا ہے۔
دوسری جانب صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت نے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا عندیہ دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ عوامی مشکلات کا ادراک ہے اور ان پر مرحلہ وار کام کیا جا رہا ہے۔
تاہم، طلبہ تنظیموں اور یونینز کا موقف ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے واضح اور عملی اقدامات سامنے نہیں آتے، تب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک پیچھے نہ ہٹنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
فرانس میں جاری یہ احتجاجی لہر حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی بے چینی کی عکاس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار نہ کیا تو ملک میں معاشی اور سماجی مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی فرانس کے مختلف حصوں میں پُرتشدد واقعات اور لوٹ مار کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ حکومت ان واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ رکھنے پر مجبور ہے۔
ملک بھر میں جاری ان مظاہروں نے معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہونے سے تجارتی سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہیں، جبکہ عوام کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں صورتحال کا انحصار حکومتی مذاکرات اور مظاہرین کے ردعمل پر ہوگا۔ فی الحال پیرس اور دیگر بڑے شہروں میں سکیورٹی فورسز کا گشت جاری ہے اور انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔





اپنی رائے دیں