دنیا بھر میں مالی معاملات اور خریداری کے لیے کریڈٹ کارڈ کا استعمال آج کے دور میں انتہائی عام ہو چکا ہے، جس نے نقد رقم ساتھ رکھنے کی ضرورت کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ جدید دور کی یہ سہولت کتنی ہی آسان کیوں نہ ہو، لیکن اس کی ایجاد کے پیچھے ایک انتہائی دلچسپ اور انوکھی کہانی پوشیدہ ہے۔
یہ واقعہ بیسویں صدی کے وسط کا ہے جب دنیا میں ڈیجیٹل ادائیگی کا کوئی تصور نہیں تھا اور تمام لین دین صرف نقد رقم کے ذریعے ہی ممکن ہوتا تھا۔ فرینک میک نامارا نامی ایک امریکی کاروباری شخص نے اس جدید نظام کی بنیاد رکھی، جس نے آگے چل کر مالیاتی دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
یہ قصہ 1949 کا ہے جب نیویارک سے تعلق رکھنے والے بزنس مین فرینک میک نامارا نے اپنے چند اہم کاروباری کلائنٹس کو شہر کے ایک معروف ہوٹل میں رات کے کھانے کی دعوت دی تھی۔ تمام مہمانوں نے پرتعیش کھانے سے لطف اندوز ہو چکے اور رات گئے ضیافت کا یہ سلسلہ خوشگوار ماحول میں اپنے اختتام کو پہنچا۔
جب کھانے کے بعد بل چکانے کا وقت آیا تو فرینک میک نامارا نے اپنی جیبوں کو ٹٹولا لیکن وہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو گئے کیونکہ وہ اپنا بٹوہ گھر ہی بھول آئے تھے۔ اس ناخوشگوار صورتحال کے باعث انہیں اپنے گھر فون کرکے بیوی کو بلانا پڑا تاکہ ہوٹل کا بل ادا کیا جا سکے اور اس شرمندگی کے احساس نے ان کی سوچ کا رخ یکسر تبدیل کر دیا۔
ہوٹل میں پیش آنے والے اس شرمناک واقعے نے فرینک میک نامارا کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا کہ نقد رقم ساتھ نہ ہونے کی صورت میں بھی ادائیگی کا کوئی متبادل نظام ہونا چاہیے۔ اسی شرمندگی اور پریشانی کے عالم میں ان کے ذہن میں ایک ایسے کارڈ کا خیال آیا جسے مختلف ہوٹلوں میں مالیاتی لین دین کے لیے استعمال کیا جا سکے، جس کا بل مہینے کے آخر میں ادا کیا جائے۔
ان کے ذہن میں اس تصور نے جنم لیا کہ ایک ایسا کاغذی یا پلاسٹک کا کارڈ بنایا جائے جو کیش کا نعم البدل بنے، اور کارڈ استعمال کرنے والا فرد ہر ماہ کے آخر میں اپنے استعمال کا مجموعی بل باقاعدگی سے ادا کر سکے۔ اس وقت انہوں نے یہ بالکل نہیں سوچا تھا کہ ان کا یہ نجی خیال آنے والے وقتوں میں پوری دنیا کی معیشت پر اتنے گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
اپنے اس انوکھے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فرینک میک نامارا نے اپنے کاروباری شراکت دار رالف سنائیڈر کے ساتھ مل کر باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کی۔ اس جوڑی نے مل کر 1950 میں ڈائنرز کلب کے نام سے ایک منفرد کارڈ باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا، جو آج کے کریڈٹ کارڈ کا ابتدائی روپ ثابت ہوا۔
ابتدا میں اس کارڈ کا دائرہ کار انتہائی محدود تھا اور اسے صرف نیویارک شہر کے 27 مخصوص ہوٹلوں میں ہی قبول کیا جاتا تھا تاکہ ابتدائی تجربات کیے جا سکیں۔ اس ابتدائی دور میں اس مالیاتی ماڈل کو کریڈٹ کارڈ کے بجائے بنیادی طور پر چارج کارڈ کہا جاتا تھا کیونکہ اس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ مہینے کے آخر میں بقایا جات کی پوری رقم یک مشت ادا کرنا لازمی ہوتا تھا۔
شروع میں لوگوں کے لیے یہ ایک بالکل نیا اور انوکھا تجربہ تھا لیکن اس کی افادیت نے بہت تیزی سے توجہ حاصل کرنا شروع کر دیا۔ محض ایک سال کے قلیل عرصے کے اندر اندر 20 ہزار کے قریب افراد نے اس کارڈ کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنا شروع کر دیا، جس سے اس کے بانیوں کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس نظام میں مزید تبدیلیاں اور وسعت آتی چلی گئی اور بینکاری کے شعبے نے اس میں گہری دلچسپی لینی شروع کر دی۔ امریکہ کے معروف ادارے بینک آف امریکا نے 1958 میں اپنا ایک الگ کارڈ متعارف کرایا جسے بینک امریکارڈ کا نام دیا گیا۔
یہ نیا کارڈ آگے چل کر 1976 میں تبدیل ہو کر موجودہ دور کا مشہور زمانہ ویزا کارڈ بن گیا، جس کی پذیرائی آج پوری دنیا میں کی جاتی ہے۔ یہ وہی گھومنے والا کریڈٹ کارڈ تھا جو آج کے دور میں دنیا بھر کے بینکوں کی جانب سے اپنے صارفین کو فراہم کیا جا رہا ہے۔
یہ تمام تر شاندار انقلابی تبدیلیاں دراصل اسی ایک واقعے کا نتیجہ تھیں جب نیویارک کا ایک کاروباری شخص رات کے وقت کھانے پر جاتے ہوئے اپنا بٹوہ گھر بھول گیا تھا۔ اس چھوٹی سی انسانی بھول نے دنیا کو ادائیگی کا ایک ایسا نظام دے دیا جس کے بغیر آج کی جدید معیشت کا تصور بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
آج کریڈٹ کارڈ نہ صرف کاروباری شخصیات بلکہ عام شہریوں کی زندگی کا بھی ایک اہم ترین حصہ بن چکے ہیں جن کے بغیر خریداری اور سفر کے دوران مالی امور کا انتظام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ فرینک میک نامارا کی ایک چھوٹی سی بھول سے شروع ہونے والا یہ سفر آج اربوں کھربوں ڈالر کی عالمی صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔





اپنی رائے دیں