کراچی کے علاقے لیاقت آباد نمبر 10 میں واقع کباڑ مارکیٹ کی چوڑی والی گلی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک گھر سے خاتون کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ مقتولہ کی شناخت سویرا کے نام سے ہوئی ہے جو دو بچوں کی ماں تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتولہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ رہائش پذیر تھی، جبکہ اس کا شوہر روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک دبئی میں مقیم ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کو تیز دھار آلے کے وار کرکے قتل کیا گیا ہے۔
واقعے کے وقت مقتولہ کے دونوں بچے قریبی گھر میں اپنے نانا کے پاس موجود تھے جس کی وجہ سے وہ اس المناک واقعے سے محفوظ رہے۔ مقتولہ کا بھائی عبداللہ جب گھر پہنچا تو اس نے اپنی بہن کو خون میں لت پت مردہ حالت میں پایا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
مقتولہ کے بھائی عبداللہ نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ گھر سے چار موبائل فون بھی غائب ہیں۔ پولیس اس پہلو کو بھی مدنظر رکھ رہی ہے کہ آیا یہ قتل ڈکیتی مزاحمت کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی واردات کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور فرانزک رپورٹ کی روشنی میں ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
علاقے میں اس بہیمانہ قتل کی خبر پھیلتے ہی خوف و ہراس پھیل گیا اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد گھر کے باہر جمع ہو گئی۔ مقتولہ کے لواحقین صدمے کی کیفیت میں ہیں اور پولیس سے ملزمان کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا گھر میں کسی قسم کی زبردستی داخلے کے نشانات موجود ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ مشکوک افراد کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا جا سکے۔
تفتیشی ٹیموں کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے شوہر کو بھی واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور ان کی واپسی کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اس واقعے نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لیاقت آباد اور گردونواح میں پولیس گشت کو بڑھایا جائے تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
پولیس کی جانب سے مقتولہ کے ورثاء کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دشمنی یا ذاتی رنجش کے پہلو کو بھی دیکھا جا سکے۔ تاحال کوئی حتمی ملزم نامزد نہیں کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
عباسی شہید اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی جائے گی۔ پولیس نے کہا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے قتل کے وقت اور دیگر اہم شواہد کے بارے میں مزید معلومات مل سکیں گی جو تفتیش میں معاون ثابت ہوں گی۔
شہر میں اس طرح کے واقعات کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر پولیس حکام نے تفتیشی عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس کیس کا سراغ لگا لیا جائے گا اور ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔




اپنی رائے دیں