وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ملک بھر میں غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں حالیہ کارروائی کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو مبینہ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔
ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی تفصیلات کے مطابق یہ کارروائیاں کراچی زون کے اعلیٰ حکام کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئیں جن کا مقصد غیر قانونی کرنسی کے تبادلے اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار کا قلع قمع کرنا ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران لاکھوں روپے مالیت کی ملکی کرنسی کے علاوہ ڈیجیٹل آلات اور مواصلاتی ذرائع بھی ضبط کیے گئے ہیں جو اس غیر قانونی دھندے میں استعمال ہو رہے تھے۔
پہلی کارروائی شہر کے مصروف ترین مقام میٹروپول سگنل کے قریب عمل میں لائی گئی جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے عملے نے ایک مشکوک شخص کو دبوچ لیا۔ گرفتار ہونے والے اس شخص کی شناخت روح اللہ ولد مسعود کے نام سے کی گئی ہے جس کے قبضے سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے اکسٹھ لاکھ پچاس ہزار روپے نقد برآمد کیے ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ ملزم دبئی سے ملنے والے درہموں کی ترسیل کے بعد بلیک مارکیٹ کے نرخوں پر پاکستان میں مختلف افراد کو پاکستانی کرنسی فراہم کرنے کے غیر قانونی نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ اس کے زیر استعمال موبائل فون سے واٹس ایپ پیغامات کی صورت میں ایسے شواہد ملے ہیں جو اس غیر قانونی مالیاتی لین دین کی تصدیق کرتے ہیں۔
دوسری کارروائی کراچی کے علاقے جمشید روڈ پر واقع مکہ آرکیڈ میں کی گئی جہاں عدنان آٹوز نامی دکان پر چھاپہ مارا گیا۔ اس کارروائی کے دوران محمد ندیم میمن ولد محمد اقبال کو حراست میں لیا گیا جس کے پاس سے ڈیجیٹل شواہد پر مشتمل دو عدد موبائل فونز برآمد کیے گئے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ملزم بیرون ملک خاص طور پر جاپان سے گاڑیوں کی درآمد اور خریداری کے لیے دبئی کے راستے رقوم کی ادائیگی کا بندوبست کرتا تھا۔ اس عمل میں پاکستان کے اندر متعلقہ ادائیگیاں غیر رسمی اور غیر قانونی ذرائع سے کی جاتی تھیں تاکہ سرکاری نظام سے انحراف کیا جا سکے اور محصولات سے بچا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان سے حاصل ہونے والے ڈیجیٹل شواہد اور موبائل فونز کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ اس پورے نیٹ ورک میں ملوث دیگر سہولت کاروں اور مرکزی کرداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اس ضمن میں مزید تفتیش جاری ہے اور اہم انکشافات متوقع ہیں جو اس نیٹ ورک کی جڑوں تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
غیر قانونی کرنسی کے کاروبار سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور زر مبادلہ کے سرکاری ذخائر متاثر ہوتے ہیں۔ اسی امر کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے جو ملکی معیشت کو کمزور کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔
حکومت پاکستان اور متعلقہ مالیاتی ادارے ملک میں منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنایا جا سکے اور غیر قانونی ترسیلات زر کے راستے ہمیشہ کے لیے بند کیے جا سکیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کریک ڈاؤن سے نہ صرف بلیک مارکیٹ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ قانونی ذرائع سے آنے والے سرمائے کو بھی فروغ ملتا ہے۔ عوام کو بھی اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ رقوم کی ترسیل اور وصولی کے لیے صرف مجاز بینکنگ چینلز کا ہی انتخاب کریں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ادارے کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں پوری تندہی سے جاری رہیں گی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ دونوں گرفتار ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ تفتیش کے اگلے مراحل میں مزید اہم گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں کیونکہ ان ابتدائی کارروائیوں میں ملنے والے شواہد انتہائی اہم نوعیت کے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کارروائیاں اس عزم کی عکاس ہیں کہ ریاست غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے سدباب کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط بحال ہوگا بلکہ ملک میں شفاف تجارت کے فروغ کو بھی تقویت ملے گی جو کہ دیرپا ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔





اپنی رائے دیں