عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین ساخس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بتدریج کم ہو کر 2027 تک اوسطاً 80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ سکتی ہیں۔ اس پیش گوئی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار میں اضافہ اور طلب و رسد کے درمیان توازن کا بہتر ہونا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں بہتری اور خلیج فارس کے باہر پیداواری صلاحیت میں اضافے نے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کی قلت کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ ستمبر کے اختتام تک خلیج فارس سے تیل کی ترسیل 2025 کی اوسط سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔
مالیاتی ادارے نے اپنے قلیل مدتی تخمینوں میں تبدیلی کرتے ہوئے دسمبر 2026 کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جو پہلے 85 ڈالر فی بیرل تھی۔ اس اضافے کی وجہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں موجود غیر یقینی صورتحال ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین موجودہ تنازع میں شدت آتی ہے تو تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔ موجودہ قیمتوں میں تقریباً 25 ڈالر فی بیرل کا اضافی خطراتی پریمیم شامل ہے جو کشیدگی کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
گولڈمین ساخس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ستمبر میں عالمی تیل منڈی تقریباً متوازن ہو گئی تھی، جہاں طلب اور رسد کا فرق محض 3 لاکھ بیرل یومیہ رہ گیا تھا۔ یہ صورتحال مارچ کے مقابلے میں بہت بہتر ہے جب یہ فرق 76 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2026 کی آخری سہ ماہی اور 2027 کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی رسد طلب سے بڑھ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں پر نیچے کی جانب دباؤ بڑھے گا، جس سے صارفین کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔
تاہم، طلب کے محاذ پر چین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں تیل کی کھپت توقعات سے کم رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب پیٹرول اور ڈیزل جیسی مصنوعات کی دستیابی بہتر ہوگی اور قیمتیں قابلِ برداشت ہوں گی تو طلب میں بحالی کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔
ہفتے کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک دیکھی گئی، جو مئی کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ اس خدشے کے پیش نظر ہوا کہ مستقبل قریب میں تیل کی فراہمی میں بہتری کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔
فوری ترسیل کے لیے دستیاب فزیکل برینٹ خام تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں برینٹ فیوچرز بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر کاروبار کر رہے ہیں۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ فوری طلب کو پورا کرنے کی لاگت مستقبل کے معاہدوں سے زیادہ ہے۔
مجموعی طور پر، عالمی منڈی کا مستقبل مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال اور برآمدات کے تسلسل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر خطے میں حالات معمول پر رہتے ہیں تو 2027 میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کی توقع کی جا سکتی ہے۔
تیل پیدا کرنے والے ممالک نے بھی اپنے نظام کو نئے عالمی حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے اور ترسیل کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی نے عالمی منڈی میں سپلائی چین کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود، تیل کی عالمی سپلائی چین نے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ ممالک نے اپنی پیداواری حکمت عملیوں کو تبدیل کر کے مارکیٹ میں آنے والے ممکنہ جھٹکوں کو جذب کرنے کی کوشش کی ہے۔
آئندہ دنوں میں عالمی معیشت کی رفتار اور تیل کی کھپت کے اعداد و شمار قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی پیش رفت اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں پر مرکوز ہیں تاکہ مستقبل کے معاشی رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں