مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 9:38
بریکنگ
بھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیآئی میکس فلم سازی: روایتی سیلولائڈ اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا موازنہسہ فریقی ون ڈے سیریز: پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دیتین ملکی ون ڈے سیریز: پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دیبابر اعظم کا انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 ہزار رنز کا سنگ میل عبورجے یو آئی نے خیبر پختونخوا میں ضلعی سطح پر قائم کمیٹیوں کو مسترد کر دیابابر اعظم انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 ہزار رنز بنانے والے پانچویں پاکستانی بیٹر بن گئےراولپنڈی: سیکیورٹی ڈیوٹی کے دوران ڈولفن فورس کا اہلکار گولی لگنے سے زخمیعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2027 تک 80 ڈالر فی بیرل تک گرنے کا امکانسعد بیگ پاکستان کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کھیلنے والے 262 ویں کھلاڑی بن گئےراولپنڈی: سہ ملکی سیریز کی سیکیورٹی پر مامور ڈولفن اہلکار حادثاتی فائر سے زخمیخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، کامران مرتضیٰپاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید مالی بحران کی لپیٹ میںرہائش کے لیے دنیا کے بہترین ممالک کی نئی فہرست جاری، موناکو سرفہرستاسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے ڈرائیونگ لائسنس کی آن لائن سہولت کا آغازنیند کی کمی جوڑوں کے امراض کا سبب بن سکتی ہے، طبی تحقیق میں انکشافآئی سی سی کی اینٹی ڈوپنگ ٹیم کا دورہ، انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کیےمحمد رضوان اور امام الحق کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازتجے پی ایف پنک پولو کپ 2026 کا ٹائٹل ایف جی ڈن پولو نے جیت لیاامام الحق کو پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کھیلنے کی اجازت مل گئی
کاروبار

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2027 تک 80 ڈالر فی بیرل تک گرنے کا امکان

گولڈمین ساخس کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال بہتر ہونے اور رسد میں اضافے سے قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2027 تک 80 ڈالر فی بیرل تک گرنے کا امکان

عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین ساخس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بتدریج کم ہو کر 2027 تک اوسطاً 80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ سکتی ہیں۔ اس پیش گوئی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار میں اضافہ اور طلب و رسد کے درمیان توازن کا بہتر ہونا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں بہتری اور خلیج فارس کے باہر پیداواری صلاحیت میں اضافے نے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کی قلت کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ ستمبر کے اختتام تک خلیج فارس سے تیل کی ترسیل 2025 کی اوسط سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔

مالیاتی ادارے نے اپنے قلیل مدتی تخمینوں میں تبدیلی کرتے ہوئے دسمبر 2026 کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جو پہلے 85 ڈالر فی بیرل تھی۔ اس اضافے کی وجہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں موجود غیر یقینی صورتحال ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین موجودہ تنازع میں شدت آتی ہے تو تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔ موجودہ قیمتوں میں تقریباً 25 ڈالر فی بیرل کا اضافی خطراتی پریمیم شامل ہے جو کشیدگی کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔

گولڈمین ساخس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ستمبر میں عالمی تیل منڈی تقریباً متوازن ہو گئی تھی، جہاں طلب اور رسد کا فرق محض 3 لاکھ بیرل یومیہ رہ گیا تھا۔ یہ صورتحال مارچ کے مقابلے میں بہت بہتر ہے جب یہ فرق 76 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2026 کی آخری سہ ماہی اور 2027 کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی رسد طلب سے بڑھ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں پر نیچے کی جانب دباؤ بڑھے گا، جس سے صارفین کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔

تاہم، طلب کے محاذ پر چین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں تیل کی کھپت توقعات سے کم رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب پیٹرول اور ڈیزل جیسی مصنوعات کی دستیابی بہتر ہوگی اور قیمتیں قابلِ برداشت ہوں گی تو طلب میں بحالی کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

ہفتے کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک دیکھی گئی، جو مئی کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ اس خدشے کے پیش نظر ہوا کہ مستقبل قریب میں تیل کی فراہمی میں بہتری کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔

فوری ترسیل کے لیے دستیاب فزیکل برینٹ خام تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں برینٹ فیوچرز بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر کاروبار کر رہے ہیں۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ فوری طلب کو پورا کرنے کی لاگت مستقبل کے معاہدوں سے زیادہ ہے۔

مجموعی طور پر، عالمی منڈی کا مستقبل مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال اور برآمدات کے تسلسل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر خطے میں حالات معمول پر رہتے ہیں تو 2027 میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کی توقع کی جا سکتی ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک نے بھی اپنے نظام کو نئے عالمی حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے اور ترسیل کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی نے عالمی منڈی میں سپلائی چین کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود، تیل کی عالمی سپلائی چین نے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ ممالک نے اپنی پیداواری حکمت عملیوں کو تبدیل کر کے مارکیٹ میں آنے والے ممکنہ جھٹکوں کو جذب کرنے کی کوشش کی ہے۔

آئندہ دنوں میں عالمی معیشت کی رفتار اور تیل کی کھپت کے اعداد و شمار قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی پیش رفت اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں پر مرکوز ہیں تاکہ مستقبل کے معاشی رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں