مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:57
تازہ
بابر اعظم انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 ہزار رنز بنانے والے پانچویں پاکستانی بیٹر بن گئےراولپنڈی: سیکیورٹی ڈیوٹی کے دوران ڈولفن فورس کا اہلکار گولی لگنے سے زخمیعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2027 تک 80 ڈالر فی بیرل تک گرنے کا امکانسعد بیگ پاکستان کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کھیلنے والے 262 ویں کھلاڑی بن گئےراولپنڈی: سہ ملکی سیریز کی سیکیورٹی پر مامور ڈولفن اہلکار حادثاتی فائر سے زخمیخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، کامران مرتضیٰپاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید مالی بحران کی لپیٹ میںرہائش کے لیے دنیا کے بہترین ممالک کی نئی فہرست جاری، موناکو سرفہرستاسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے ڈرائیونگ لائسنس کی آن لائن سہولت کا آغازنیند کی کمی جوڑوں کے امراض کا سبب بن سکتی ہے، طبی تحقیق میں انکشافآئی سی سی کی اینٹی ڈوپنگ ٹیم کا دورہ، انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کیےمحمد رضوان اور امام الحق کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازتجے پی ایف پنک پولو کپ 2026 کا ٹائٹل ایف جی ڈن پولو نے جیت لیاامام الحق کو پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کھیلنے کی اجازت مل گئیبالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کے ممبئی والے بنگلے پر کارروائیامریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کا سنڈریلا کا روپ دھارنا مداحوں کو بھا گیاپیپلز پارٹی کا لاہور میں بلدیاتی انتخابات کیلئے امیدواروں کی نامزدگی کا عمل شروعوزارتِ مواصلات میں 222 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں بے نقابنادرا نے شناختی کارڈ پر نام تبدیل کروانے کا آسان طریقہ کار واضح کر دیااسلام آباد: دامن کوہ کے قریب سرکاری گاڑی کی ٹکر سے خاتون سمیت دو افراد زخمی
کاروبار

پاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید مالی بحران کی لپیٹ میں

ملک بھر میں 50 فیصد پاور لومز بند، درآمدی پالیسیوں اور پیداواری لاگت میں اضافے نے صنعت کو زوال سے دوچار کر دیا ہے۔

پاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید مالی بحران کی لپیٹ میں

پاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں سینکڑوں جننگ فیکٹریاں اور ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں موجود پاور لومز کا تقریباً 50 فیصد حصہ بدستور غیر فعال ہے۔

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کے مطابق، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 15 اکتوبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 40 لاکھ 81 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔

صوبائی اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو پنجاب میں کپاس کی پیداوار 16 لاکھ 38 ہزار گانٹھ اور سندھ میں 24 لاکھ 43 ہزار گانٹھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم، کراپ رپورٹنگ سروسز پنجاب کے اعداد و شمار اور جنرز ایسوسی ایشن کے ڈیٹا میں نمایاں فرق پایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ٹیکسٹائل ملوں نے اب تک 34 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں خریدی ہیں جبکہ برآمد کنندگان کی خریداری 97 ہزار گانٹھوں تک محدود رہی ہے۔ اس وقت ملک میں 5 لاکھ 32 ہزار گانٹھوں کے قابل فروخت ذخائر موجود ہیں۔

صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں ریکارڈ اضافے اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے غلط استعمال نے مقامی صنعت کی کمر توڑ دی ہے۔ بیرون ملک سے انڈر انوائسنگ کے ذریعے بڑی مقدار میں دھاگہ اور کپڑا درآمد کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، درآمد شدہ خام مال سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کر کے برآمد کرنے کے بجائے اسے مقامی مارکیٹ میں ہی فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل نے مقامی کاٹن انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچایا ہے کیونکہ درآمدی مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

اپٹما کے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2027/28 کی پہلی سہ ماہی میں مین میڈ یارن اور فیبرک کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس، برآمدات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، جس سے مقامی صنعت کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔

احسان الحق نے مزید بتایا کہ ماضی میں بھارت سے سوتی دھاگے کی رعایتی درآمدات نے بھی مقامی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ اس کے نتیجے میں اب تک 500 سے زائد جننگ فیکٹریاں اور 150 سے زیادہ ٹیکسٹائل ملیں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔

صنعتی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ای ایف ایس کے تحت مین میڈ یارن اور فیبرک کی درآمد پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے مقامی صنعت کو سہارا ملے گا اور معاشی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب، خطے کے دیگر ممالک اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مستحکم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش نے اپنی کپاس کی پیداوار کو 2050 تک 19 لاکھ گانٹھوں تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔

پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں جس کی بڑی وجہ ناموافق موسمی حالات ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ٹیکسٹائل سیکٹر کا بحران ملکی برآمدات پر مزید منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے تاحال کوئی حتمی حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔ صنعت کاروں کا مطالبہ ہے کہ پالیسیوں میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ مقامی سطح پر تیار کردہ مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنایا جا سکے۔

مستقبل میں اس شعبے کی بحالی کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی اور خام مال کی دستیابی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا زوال براہ راست ملکی زرمبادلہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں