جدید طبی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انسانی صحت پر نیند کی کمی کے اثرات صرف تھکاوٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ جوڑوں کے سنگین امراض کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کا دورانیہ براہ راست ہڈیوں اور جوڑوں کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
جرنل آرتھرائٹس کیئر اینڈ ریسرچ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں تقریباً پانچ ہزار افراد کے ڈیٹا کا طویل عرصے تک جائزہ لیا گیا۔ محققین نے ان افراد کی نیند کی عادات کا مشاہدہ آٹھ سے تیرہ سال کے طویل دورانیے میں کیا تاکہ نتائج کی تصدیق کی جا سکے۔
تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق جو افراد رات کے وقت چھ گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں، ان میں گھٹنوں کے جوڑوں کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ 41 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح کولہوں کے جوڑوں کے امراض کا خطرہ بھی 39 فیصد تک زیادہ پایا گیا ہے۔
ماہرین نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ صرف نیند کا دورانیہ ہی نہیں بلکہ نیند کے معیار میں خلل بھی جوڑوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ جن افراد کو سوتے وقت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا جن کی نیند بار بار ٹوٹتی ہے، ان میں بھی یہ خطرات 34 سے 40 فیصد تک دیکھے گئے ہیں۔
تحقیق میں رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد جو اپنی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے برعکس رات کو جاگتے ہیں، ان میں گھٹنوں کے جوڑوں کے مسائل پیدا ہونے کا امکان عام لوگوں کی نسبت کافی زیادہ ہوتا ہے۔
اوسٹیو آرتھرائٹس جوڑوں کا ایک تکلیف دہ مرض ہے جس میں ہڈیوں کے سروں پر موجود حفاظتی تہہ یعنی کارٹلیج بتدریج ختم ہونے لگتی ہے۔ یہ کارٹلیج ہڈیوں کو آپس میں رگڑ سے بچاتی ہے اور جوڑوں کی حرکت کو آسان بناتی ہے۔
سائنسی ماہرین کے مطابق دن بھر کے معمولات کے دوران کارٹلیج جسمانی دباؤ برداشت کرتی ہے اور اسے مسلسل دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ رات کے وقت جب انسان گہری نیند سوتا ہے تو جسم میں اس کارٹلیج کی بحالی کا عمل شروع ہوتا ہے جو صحت کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
اس بحالی کے عمل میں کارٹلیج بنانے والے خلیات کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ جب نیند کا دورانیہ کم ہو یا نیند کا معیار خراب ہو تو یہ حیاتیاتی گھڑی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کارٹلیج کی مرمت کا عمل رک جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کارٹلیج کی بروقت مرمت نہ ہونے سے جوڑوں میں سوزش اور درد کی شکایت پیدا ہوتی ہے جو بعد ازاں اوسٹیو آرتھرائٹس کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس لیے پرسکون اور گہری نیند کو جوڑوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق کے نتائج اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ صحت مند طرز زندگی کے لیے نیند کا ایک متوازن معمول اپنانا کتنا ضروری ہے۔ وقت پر سونا اور نیند کے دورانیے کو مکمل کرنا جوڑوں کے امراض سے بچاؤ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین صحت نے مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ رات کی شفٹ میں کام کرنے پر مجبور ہیں، انہیں اپنی خوراک اور ورزش کے معمولات میں ایسی تبدیلیاں لانی چاہئیں جو ان کی ہڈیوں اور جوڑوں کو اضافی تحفظ فراہم کر سکیں۔
یہ تحقیق جوڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے ایک اہم انتباہ ہے کہ وہ اپنی نیند کے معمولات کو نظر انداز نہ کریں۔ نیند کی کمی کو محض ایک عارضی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے طویل مدتی صحت کے خطرے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
مستقبل میں اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نیند اور جوڑوں کے امراض کے درمیان تعلق کو مزید گہرائی سے سمجھا جا سکے۔ فی الحال یہ تحقیق طبی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔





اپنی رائے دیں