لاہور سے تعلق رکھنے والے قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بیٹر امام الحق کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق انہیں ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کھیلنے کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔ اس اجازت نامے کے حصول کے بعد اب وہ میدان میں اترنے کے لیے بالکل تیار دکھائی دیتے ہیں اور ان کے چاہنے والوں میں بھی اس فیصلے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق امام الحق پاکستان کے معروف ادارے او جی ڈی سی ایل کی نمائندگی کریں گے اور اس حوالے سے تمام قانونی اور انتظامی معاملات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے ذمہ داران نے بھی اس بات کی مکمل تصدیق کر دی ہے کہ قومی کھلاڑی ان کی ٹیم کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے او جی ڈی سی ایل کے حکام کو اس امر سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے کہ امام الحق کو رواں سیزن کے اس اہم مرحلے میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس اجازت کے بعد محکمہ جاتی کرکٹ کے حلقوں میں بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور ٹیمیں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کا آخری راؤنڈ کل سے شروع ہونے جا رہا ہے جس میں امام الحق اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے او جی ڈی سی ایل کی طرف سے میدان میں اتریں گے۔ شائقین کرکٹ اس میچ میں ان کی شاندار بیٹنگ دیکھنے کے لیے بے تاب نظر آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل قومی ٹیم کے ایک اور نامور کھلاڑی محمد رضوان کو بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جا چکی ہے جس سے ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی موجودگی سے متعلقہ محکموں کی ٹیموں کی بیٹنگ لائن کو زبردست تقویت ملے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے زیر تفتیش امور کے تناظر میں قومی کرکٹرز محمد رضوان اور امام الحق کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے عارضی طور پر روک دیا گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی شرکت معطل ہو گئی تھی۔
بورڈ کے عائد کردہ قواعد اور ضوابط کے مطابق ان دونوں کھلاڑیوں پر یہ لازم تھا کہ وہ اپنی متعلقہ ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو اپنے فٹنس ٹیسٹ کے نتائج فراہم کریں تاکہ ان کی فزیکل فٹنس کا اندازہ لگایا جا سکے اور ٹیموں میں ان کے کردار کا تعین ہو۔
اس سے پہلے جب ٹیموں کے اسکواڈ کا اعلان کیا گیا تھا تو محمد رضوان کو پریذیڈنٹ ٹرافی میں سوئی گیس کی ٹیم کا نائب کپتان مقرر کیا گیا تھا جبکہ امام الحق کو او جی ڈی سی ایل کی ٹیم کا کپتان مقرر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امام الحق کو دوبارہ کھیلنے کی اجازت ملنا پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے ایک مثبت قدم ہے کیونکہ اس سے نہ صرف ٹورنامنٹ کا مقابلہ مزید دلچسپ ہو گا بلکہ کھلاڑیوں کو بھی اپنی فارم بحال کرنے کا بہترین موقع ملے گا۔
او جی ڈی سی ایل کی انتظامیہ نے امام الحق کی ٹیم میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے تجربے سے ٹیم کو آخری راؤنڈ کے اہم میچز میں خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا اور وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔
ملک بھر کے کرکٹ حلقوں میں اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امام الحق اپنی روایتی اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت اپنی ٹیم کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کریں گے اور میچ کو یادگار بنائیں گے۔
آنے والے دنوں میں پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے اس آخری مرحلے کے دوران تمام نگاہیں امام الحق کی کارکردگی پر مرکوز ہوں گی کیونکہ وہ طویل عرصے کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کے اس بڑے پلیٹ فارم پر ایکشن میں نظر آئیں گے۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں کرکٹ شائقین کے لیے یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل بن چکا ہے جہاں تمام کھلاڑی اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ بورڈ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اب تمام تر توجہ میدانی مقابلوں اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مرکوز ہو گئی ہے۔





اپنی رائے دیں