فرانسیسی حکام کے مطابق ملک کے ایک تعلیمی ادارے میں فائرنگ کا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک نوعمر طالبعلم نے مبینہ طور پر فائرنگ کر کے اسکول کے پرنسپل اور ایک استاد کو زخمی کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ فرانس کے ایک مڈل اسکول میں رونما ہوا جہاں سکیورٹی اور امن عامہ کی صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب ایک طالب علم نے ہتھیار کا استعمال کیا۔
پراسیکیوٹرز کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کے اس واقعے میں نشانہ بننے والے پرنسپل اور استاد دونوں زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کا عمل شروع کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس کارروائی میں ملوث مشتبہ طالبعلم کی عمر 14 سال ہے جس نے اپنی اس حرکت کے لیے پستول کو ایک گٹار کیس کے اندر چھپا کر اسکول کے اندر منتقل کیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اوبگن کے علاقے میں واقع جوزف لکانال مڈل اسکول میں پیش آیا جہاں تعلیمی سرگرمیاں جاری تھیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اسکول کے عملے کے ایک بیدار اور پھرتیلے رکن نے خطرے کو بھانپتے ہوئے انتہائی جرات کا مظاہرہ کیا اور شوٹر کو قابو کر لیا۔
عملے کے اس رکن نے طالبعلم کو اس وقت روکا جب وہ اسکول کی دو منزلوں پر گھومتے ہوئے مسلسل گولیاں چلا رہا تھا جس سے بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا۔
موقع پر موجود عملے نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور طالبعلم کو غیر مسلح کیا اور فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کی اطلاع دی۔
اطلاع ملنے پر پولیس کی نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور اسکول کو گھیرے میں لے کر کارروائی کا آغاز کر دیا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث 14 سالہ لڑکے کو اپنی حراست میں لے لیا اور اسے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے ہتھیار کی فراہمی اور اس کے محرکات کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا۔
بتایا گیا ہے کہ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہ بحیرہ روم کے مشہور بندرگاہی شہر مارسیل سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق کی سمت واقع ہے۔
فرانسیسی حکام نے اس واقعے کے بعد اسکولوں میں سکیورٹی کے امور کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں طلباء اور اساتذہ کی حفاظت کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔
اسکول انتظامیہ اور مقامی تعلیمی بورڈ کی جانب سے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ زخمی ہونے والے پرنسپل اور ٹیچر کی صحت سے متعلق تفصیلات کا انتظار ہے۔
پولیس اور مقامی پراسیکیوٹر آفس اس معاملے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہا ہے تاکہ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔





اپنی رائے دیں