کوئٹہ میں تعلیمی اداروں کی جانب سے موسم سرما کی چھٹیوں کے دوران فیسوں کی وصولی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے تاکہ طلبا کے والدین کو مالی دباؤ سے بچایا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ منیر احمد درانی نے تمام نجی اسکولوں کو عدالتی احکامات پر من و عن عمل درآمد کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جو نجی تعلیمی ادارے چھٹیوں کے دوران فیس وصول کرنے میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
رجسٹریشن کی منسوخی کے علاوہ ایسے نجی اسکولوں کی عمارات کو بھی سیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو حکومتی اور عدالتی حکم نامے کی خلاف ورزی کریں گے۔ انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ والدین کے حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے اس سلسلے میں عوام بالخصوص والدین سے بھی ایک اہم اپیل کی گئی ہے۔ والدین سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی اسکول چھٹیوں کی فیس کا مطالبہ کرے تو اس کی فوری اطلاع دی جائے۔
شکایت درج کرانے کے لیے والدین ڈپٹی کمشنر آفس یا متعلقہ محکمہ تعلیم سے فوری رجوع کر سکتے ہیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔ انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ شکایات موصول ہوتے ہی فوری ایکشن لیا جائے گا۔
بلوچستان کے محکمہ تعلیم میں تعلیمی اداروں کی تعطیلات کا نظام روایتی طور پر مختلف زونز میں تقسیم ہوتا ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں کو موسمی حالات کی مناسبت سے سرد اور گرم زونز میں رکھا جاتا ہے۔
سرد علاقوں میں موسم سرما کی تعطیلات عام طور پر دسمبر کے وسط سے شروع ہوتی ہیں اور ڈھائی ماہ تک جاری رہتی ہیں۔ ان طویل تعطیلات کے دوران فیسوں کی وصولی کا معاملہ والدین کے لیے مالی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔
دوسری جانب گرم علاقوں میں نسبتا مختصر تعطیلات ہوتی ہیں جو عام طور پر 10 دن پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان مختلف زونز کی وجہ سے تعلیمی کیلنڈر اور چھٹیوں کے اوقات کار بھی علاقے کے لحاظ سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی فیسوں کے حوالے سے عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ والدین کی دیرینہ مشکلات کا ازالہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس فیصلے سے کوئٹہ کے ہزاروں والدین کو ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں پرائیویٹ اسکولوں کے امور کو ضابطے کے مطابق چلانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔
والدین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ضضلعی انتظامیہ سختی سے اس پر عمل درآمد کرائے گی۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی فیسوں کی وصولی کے خلاف یہ ایک موثر قدم ثابت ہوگا۔
انتظامیہ نے تمام پرائیویٹ اسکولوں کے مینیجرز اور مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی حکم نامے کا احترام کریں اور چھٹیوں میں فیسوں کی بلنگ سے گریز کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی بلا امتیاز کی جائے گی۔





اپنی رائے دیں