مواد پر جائیں
منگل، 13 اکتوبر 2026 صبح 9:46 2 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:57
بریکنگ
حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، نئی قیمتوں کا اطلاق فوری ہوگاروسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئےراولپنڈی: 12 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکخیبرپختونخوا: تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی سروس بحال، حالات معمول پرخیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیےخیبرپختونخوا میں بدامنی کا تاثر: سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا انکشافافغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیاکوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمیحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگالاہور: ون ویلنگ اور ہلڑبازی کرنے والے 7 افراد گرفتار، مقدمات درجاسرائیل نے انڈونیشی عملے کی موجودگی پر ایتھوپین کارگو طیارے کو واپس بھیج دیاسندھ پبلک سروس کمیشن: سی سی ای 2023 میں مبینہ بے ضابطگیوں پر نیب متحرکترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر کام تیزاسلام آباد: بیرون ملک تعلیم کا جھانسہ، گولڈ میڈلسٹ طالبہ سے 93 لاکھ روپے کا فراڈملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کی پیش گوئیوفاقی حکومت کی جانب سے اہم سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریسعودی عرب ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سلمان الدوسریترکیہ سعودی عرب پر غیر انسانی حملوں کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: طیب اردگانوفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں کیلئے واجب التعمیل ہیں، جسٹس سید حسن اظہر رضوی
صبح 9:4613 اکتوبر
دنیا

نیپال میں تباہ کن سیلاب، گورکھا ضلع میں پورا بازار بہہ گیا

نیپال کے گورکھا ضلع میں منہ زور سیلابی ریلے نے سلیری بازار کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب، گورکھا ضلع میں پورا بازار بہہ گیا

نیپال میں ایک بار پھر منہ زور سیلاب نے شدید تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں گورکھا ضلع کا پورا بازار سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ ہولناک واقعہ 12 اکتوبر 2026 کو پیش آیا جب اچانک آنے والے سیلاب نے ہر چیز کو تہس نہس کر دیا۔

ملک کا یہ خطہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مسلسل قدرتی آفات بالخصوص سیلاب اور زلزلوں کی زد میں رہا ہے۔ تازہ ترین سیلابی ریلے نے متعدد اضلاع میں شدید نقصان پہنچایا ہے اور نظامِ زندگی کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پہاڑی تودہ گرنے کے باعث دریا کا قدرتی بہاؤ رک گیا تھا جس کے نتیجے میں انتہائی خطرناک سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس اچانک رکاوٹ کے بعد پانی کا دباؤ بڑھا اور ریلے نے نچلے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

سیلاب کی اس تباہی کے نتیجے میں گورکھا ضلع کا معروف سلیری بازار مکمل طور پر سیلابی ریلے میں بہہ گیا اور نام و نشان مٹ گیا۔ اس کے علاوہ قریبی جگت بازار میں بھی بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا۔

سیلابی ریلے نے متاثرہ علاقوں میں قائم کاروباری مراکز، دکانوں اور نجی املاک کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔ تجارتی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مشتعل پانی کے ریلے نے نہ صرف بازار بلکہ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی مکانات زمین بوس ہو گئے۔ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے سروں کی چھت سے محروم ہو گئے۔

تباہ کاریوں کا یہ سلسلہ یہیں نہیں روکا بلکہ سیلابی ریلے نے علاقے میں قائم دو معلق پلوں کو بھی بہا کر لے گیا۔ ان پلوں کے ٹوٹنے سے مختلف دیہات کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

اس کے علاوہ ایک مقامی آبی برقی پراجکٹ کو بھی سیلاب کے پانی کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس پراجکٹ کے متاثر ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اور اندھیرا چھا گیا ہے۔

انتظامیہ اور ریسکیو ذرائع کے مطابق خوش قسمتی سے تاحال کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جانی نقصان نہ ہونا ایک معجزے سے کم ہے۔

متاثرہ علاقوں میں اس وقت نقصانات کا تخمینہ لگانے اور سروے کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔

یہ تباہ کن سیلاب اس وقت آیا جب علاقے کے اکثر مکین گہری نیند میں سو رہے تھے۔ اگر بروقت احتیاطی تدابیر نہ کی جاتیں تو جانی نقصان کا خطرہ بہت زیادہ ہو سکتا تھا۔

مقامی انتظامیہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکام کو پہلے ہی موسمی حالات کی وجہ سے سیلاب آنے کا خدشہ لاحق تھا۔ اسی پیش نظر مقامی آبادی کو بروقت الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔

خطرہ محسوس کرتے ہوئے زیادہ تر افراد پہلے ہی محفوظ مقامات کی تلاش میں اونچائی والے علاقوں میں منتقل ہو چکے تھے۔ اس پیشگی انخلا کی وجہ سے ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہونے سے بچ گیا۔

نیپال کے اس پہاڑی خطے میں حالیہ برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ شدید بارشیں اور گلیشئرز کے پگھلنے کے عمل نے سیلاب کے خطرات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

حکومتِ نیپال اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سڑکوں کی بحالی اور متاثرین کے لیے عارضی خیمہ بستیوں کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں