نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع اہم ترین کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حوثی حملے پر انتہائی گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے جس میں اس واقعے کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
اپنے بیان میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں سعودی عرب کی قیادت اور وہاں بسنے والے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے ایسے تمام اقدامات کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے تاکہ علاقائی امن برقرار رہ سکے۔
وزیر خارجہ نے حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی ہے اور خصوصی طور پر اس واقعے میں متاثر ہونے والے 6 پاکستانی شہریوں کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی خیریت ہماری اولین ترجیح ہے اور حکومت ان کی صحت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
حملے کی تفصیلات پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ بے گناہ شہریوں اور اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا قطعی طور پر ناقابل قبول رویہ ہے جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے حملے بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں جو پورے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ عالمی برادری کو اس قسم کے اقدامات کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہئے۔
نائب وزیراعظم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ حکومت پاکستان اس پورے واقعے کے بعد سے سعودی عرب کے متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطے میں ہے اور تازہ ترین صورتحال کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے ریاض میں واقع پاکستانی سفارت خانے کو خصوصی اور فوری ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے تمام پاکستانی شہریوں کو ہر ممکن معاونت، طبی امداد اور سہولت فراہم کریں۔ سفارتی عملہ متاثرہ شہریوں کی دیکھ بھال کے لیے سرگرم عمل ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اور تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان طے شدہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے ہمیشہ پُرعزم ہے۔ دو برادر اسلامی ممالک کے درمیان یہ دفاعی تعاون خطے کے امن کی ضمانت ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والا یہ حملہ اسی تعاون اور دوستی کے پس منظر میں دونوں ممالک کے درمیان مزید مضبوط رابطوں کا تقاضا کرتا ہے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے اس قسم کے حملے ماضی میں بھی علاقائی سلامتی کے لیے چیلنج بنتے رہے ہیں جن پر پاکستان نے ہمیشہ دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سعودی عرب کا ایک اہم بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مسافر سفر کرتے ہیں اور لاکھوں ٹن سامان کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ اس اہم شہری تنصیب پر حملہ بین الاقوامی ہوابازی کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس واقعے کے بعد سفارتی سطح پر رابطے تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ناگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
سعودی عرب کی حکومت اور عوام کی طرف سے اس حملے کے بعد کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا۔





اپنی رائے دیں