فرانسیسی حکام نے پیرس میں مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز پر پیٹرول بموں سے حملے کے بعد اقدامِ قتل کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ہفتے کے روز ہونے والے ان مظاہروں میں ایک سیکیورٹی اہلکار پر آتش گیر مادہ پھینکا گیا جس سے اس کی وردی اور جسم کا نچلا حصہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
یہ واقعہ فرانس کے مختلف شہروں میں جاری ان مظاہروں کے دوران پیش آیا جو گزشتہ تین ہفتوں سے مہنگائی اور عوامی سہولیات کی ابتر صورتحال کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق، اس حملے میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے کارروائی جاری ہے تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
فرانس کے وزیرِ داخلہ لارینٹ نونیز نے پولیس لائن پر پیٹرول بم پھینکنے کے عمل کو 'اقدامِ قتل' قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز پر اس قسم کے حملے ناقابلِ قبول ہیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
استغاثہ کے دفتر نے بتایا کہ یہ حملہ تقریباً 15 جینڈرمیری (فوجی پولیس) اور دیگر پولیس اہلکاروں پر کیا گیا، جن میں سے کئی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والے ایک اہلکار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ حملہ آوروں کے پاس موجود آتش گیر مواد عام پیٹرول بموں کی نسبت کہیں زیادہ خطرناک اور جلن پیدا کرنے والا تھا۔
وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران 770 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر مظاہروں اور ہالووین کی تقریبات کے دوران 159 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
مظاہرین کا موقف ہے کہ وہ مہنگائی اور اسکولوں سمیت دیگر عوامی سہولیات کی کمی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب، اپوزیشن رہنما میرین لی پین نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیس پر حملہ کرنے والوں کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔
فرانس میں جاری یہ مظاہرے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک میں صدارتی انتخابات میں چھ ماہ کا وقت باقی ہے۔ حکام نے پرتشدد واقعات کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے، تاہم مظاہروں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔



اپنی رائے دیں