امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز اٹلانٹا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عالمی برادری بحیرہ اسود میں ایک محدود جنگ بندی کے قیام میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود توانائی اور اناج کی عالمی منڈیوں تک بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔
مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ اس وقت ترکیہ اور بھارت کی جانب سے پیش کردہ مختلف تجاویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ اناج کی ترسیل کے عمل کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز پر غور کا مقصد سپلائی چین میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگرچہ بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت بڑھ رہی ہے، تاہم امریکہ اس طویل تنازعے کے ایک وسیع تر اور جامع مذاکراتی حل کے لیے بھی اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر عالمی قوتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جنگی حالات کے باوجود انسانی بنیادوں پر اناج کی ترسیل کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کا یہ مطالبہ ہے کہ بحیرہ اسود کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے محفوظ بنایا جائے تاکہ دنیا بھر میں غذائی قلت کے خدشات کو کم کیا جا سکے۔


اپنی رائے دیں