مواد پر جائیں
منگل، 3 نومبر 2026 23 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اہم جائزہ اجلاسامریکہ کا آبنائے ہرمز میں ایران کے جزیرے پر فضائی حملہاے سی سی رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلانپاکستان کا مقامی سطح پر تیار کردہ پہلے فاز میزائل کا کامیاب تجربہامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ فی الحال دور کی بات ہےامریکی خاتونِ اول میل ان یا ٹرمپ روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی کریں گیمیل نیا ٹرمپ روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی وائٹ ہاؤس میں کریں گیسکیورٹی خدشات اور حملوں کے باعث 2027 کا ایشیائی کپ ملتویعطا تارڑ اور سعودی سفیر کی ملاقات، سعودی عرب میں پاکستانی ڈرامے متعارف کرانے پر اتفاقسعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے باعث اے ایف سی ایشین کپ 2027 ملتویپٹرولیم ڈیلرز کا ریفائنریوں کے منافع کا فارنسک آڈٹ کرانے کا مطالبہشکاگو بیئرز نے شاندار کارکردگی سے سیٹل سیہاکس کو شکست دیشاہ رخ خان کی فلم ’کنگ‘ نے ریلیز سے پہلے ہی 665 کروڑ روپے کما لیےدنیا بھر میں یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے، پی ٹی اےپولیس سے جھگڑے کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی ضمانت منظورکراچی پورٹ کو جدید بنانے کے منصوبوں پر کام تیز، نئی ٹیکنالوجی کا استعمالاوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن کے ملازمین کو حکومت کی اعلان کردہ تنخواہ سے بھی کم معاوضہ ملنے کا انکشافبھارتی شہر پنچکولا کے اسکول میں بچے کا بچی پر تشدد، پرنسپل اور عملے کے خلاف مقدمہ درجکراچی: نارتھ ناظم آباد میں مزدا ٹرک کی ٹکر سے طالبعلم جاں بحق، دوسرا زخمیراولپنڈی: گھر سے 37 لاکھ روپے مالیت کے زیورات چرانے والی ملازمہ گرفتار
دنیا

نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناروے پر تنقید

سابق امریکی صدر نے نوبیل کمیٹی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جانبدارانہ قرار دے دیا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نوبیل امن انعام کے حالیہ فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ باوقار انعام ملنا چاہیے تھا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران ناروے کی نوبیل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ناروے اور انعام دینے والے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ انعام اب چند ایسے نظریاتی افراد کے ہاتھوں میں ہے جو جمہوریت اور تہذیب کے مخالف ہیں۔

سابق صدر نے 2026 کے نوبیل امن انعام یافتہ ناوی پلے کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے اور انہیں ایک ایسی شخصیت قرار دیا جنہیں عالمی سطح پر زیادہ نہیں جانا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ناروے کے اس فیصلے کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ ناوی پلے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے تحفظ اور جنگی جرائم و نسل کشی کے خلاف احتساب کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہ چکی ہیں۔

اپنی تقریر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں متعدد جنگوں کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، ان کے ان دعوؤں اور تنازعات کے حل میں ان کی حکمت عملی پر عالمی سطح پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

نوبیل کمیٹی کی جانب سے ہر سال امن کے لیے خدمات انجام دینے والی شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے، جس پر اکثر عالمی سطح پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان اسی سلسلے میں ایک تازہ ترین ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ ناوی پلے ماضی میں مختلف بین الاقوامی عدالتوں میں بطور جج بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔ ان کی خدمات کو عالمی برادری کی جانب سے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے ناروے پر تنقید کا یہ معاملہ اب سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سابق امریکی صدر کا یہ بیان ان کے مخصوص سیاسی بیانیے کا حصہ ہے جس میں وہ عالمی اداروں کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

سیراکیوز میں ہونے والی اس ریلی میں ری پبلکن پارٹی کے دیگر امیدواروں نے بھی شرکت کی۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران خارجہ پالیسی اور عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات کو اپنی تقریروں کا اہم حصہ بنایا ہوا ہے۔

نوبیل امن انعام کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سیاسی رہنما نے اس کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہو۔ ماضی میں بھی کئی شخصیات نے کمیٹی کے فیصلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم ٹرمپ کا انداز اس معاملے میں کافی جارحانہ رہا ہے۔

ادھر عالمی سطح پر ناوی پلے کو ملنے والے اس اعزاز کو سراہا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ایک درست فیصلہ قرار دیا ہے، جو عالمی انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ناروے کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سفارتی حلقے اس بیان کو امریکا اور ناروے کے درمیان تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، حالانکہ یہ ایک انفرادی رائے ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں