مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:17
بریکنگ
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ، وفاقی حکومت کا اہم اقدامخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، پارلیمنٹ سے توثیق مکملیوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکارالبانیہ میں تعلیمی نظام کیخلاف طلبہ کا شدید احتجاج، درجنوں گرفتارپشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، انکوائری کمیٹی قائمخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیخلاف احتجاجی تحریک کا محدود اثر، انٹیلی جنس رپورٹامریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیپاکستان اور ملائیشیا کی افواج کے درمیان مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق اختتام پذیروائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کی قانونی اسناد پر سوالاتبرصغیر میں ہوا بازی کی تاریخ کے 94 برس، کراچی سے پہلی پرواز کی یادیںکراچی: عزیز آباد میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی
دنیا بریکنگ نیوز

یوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکار

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے توانائی مراکز پر حملے جاری رہنے کے بعد کیف اب جوابی کارروائیاں روکنے کا پابند نہیں ہے۔

یوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکار

روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، جس کے تازہ ترین واقعے میں یوکرین نے روس کے ریازان ریجن میں واقع ایک اہم آئل ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ریفائنری میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی امدادی ادارے مصروفِ عمل ہیں۔

ریازان کے گورنر پاول مالکوف نے ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملے سے تنصیب کو نقصان پہنچا ہے اور حکام کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ یہ ریفائنری روس کی سرکاری تیل کمپنی روسنیفٹ کی ملکیت ہے اور ملک کی مجموعی ریفائننگ صلاحیت کا تقریباً پانچ فیصد حصہ رکھتی ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایک غیر ملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرین نے ماضی میں کچھ عرصے کے لیے روسی ریفائنریوں پر حملے معطل کیے تھے، تاہم روس کی جانب سے مسلسل جارحیت کے بعد اب یہ سلسلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین کے بجلی گھروں اور توانائی کے اہم مراکز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جس سے لاکھوں افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر روس اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا تو یوکرین بھی اپنے دفاعی حق کا استعمال جاری رکھے گا۔

یوکرینی حکام کے مطابق، روس کی جانب سے رواں ہفتے کیے گئے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں ہی یہ کارروائی کی گئی ہے۔ یوکرین کی سرکاری توانائی کمپنی نفتوگاز نے بھی تصدیق کی ہے کہ پولتاوا میں گیس نکالنے کی ایک تنصیب کو نقصان پہنچنے کے بعد وہاں کام معطل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، کریملن نے یوکرین کے اس اقدام کو امریکی امن کوششوں کے منافی قرار دیا ہے۔ روسی حکام کا موقف ہے کہ توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے حوالے سے ابھی مذاکرات جاری تھے اور کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔ روس نے یوکرین کے وسطی علاقے کیرووہراد میں بھی حملے کیے جن میں جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

واشنگٹن اور کیف کے درمیان بھی اس معاملے پر تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے یوکرین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ روسی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، تاہم زیلنسکی نے شرط رکھی ہے کہ اگر امریکا انہیں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے مزید انٹرسیپٹرز فراہم کرے تو وہ اس پر غور کر سکتے ہیں۔

اس تنازع میں ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ایک اہم پہلو بن کر ابھرا ہے۔ یوکرین کی جانب سے ڈرون حملوں میں اسٹارلنک کے استعمال پر پابندیوں اور حدود کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ ایلون مسک نے واضح کیا ہے کہ اس نظام کے فوجی استعمال کے فیصلے امریکی حکومت اور فوج کی زیرِ نگرانی ہوتے ہیں۔

یوکرین کی وزارتِ دفاع کے مطابق، ڈرونز پر نصب اسٹارلنک آلات کی کارکردگی میں کچھ مشکلات پیش آئی تھیں، تاہم اب یہ آلات حرکت کے دوران بھی کام کر رہے ہیں۔ البتہ یوکرینی حکام کا ماننا ہے کہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار روسی ڈرونز کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔

دریں اثنا، یوکرینی بحریہ نے ایک اور اہم دعویٰ کیا ہے کہ روس کے وورونژ ریجن میں واقع بوریسوگلیبسک ایئر فیلڈ پر ایک رات کے حملے کے دوران روس کے چھ ایس یو 34 ایم فوجی طیارے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ بحریہ کے مطابق اس کارروائی میں نیپچون ساحلی میزائل نظام کا استعمال کیا گیا۔

عالمی سطح پر توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے اثرات کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ 'توانائی جنگ' نہ صرف خطے کی معیشت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

روس اور یوکرین کے مابین جاری اس کشیدہ صورتحال نے سفارتی کوششوں کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی طاقتیں جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں، وہیں زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریقین اپنے فوجی اہداف کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔

آئندہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکا اور یوکرین کے درمیان پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فراہمی پر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں۔ اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی ہی مستقبل میں توانائی تنصیبات پر حملوں کے تسلسل کا تعین کرے گی۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں