پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے ضلع بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ بچوں اور دیگر زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، الخیر پبلک اسکول میں پیش آنے والے اس حادثے کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی مراکز منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
صوبائی محکمہ صحت نے لیڈی ریڈنگ اسپتال اور خیبر ٹیچنگ اسپتال کی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات میں کہا گیا ہے کہ زخمیوں کے علاج کے لیے ڈاکٹرز، طبی عملہ، ادویات اور ضروری طبی آلات کی چوبیس گھنٹے دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کو فوری طور پر ایک ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کنٹرول روم اسپتالوں کے درمیان رابطہ کاری اور وسائل کی فراہمی کو مربوط بنانے کے لیے کام کرے گا۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پشاور کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ضلع بھر کے طبی مراکز کی نگرانی کریں اور عملے کو ہر وقت مستعد رکھیں۔ اسپتالوں میں داخل ہونے والے زخمیوں کی تعداد اور ان کے علاج کی صورتحال پر مسلسل رپورٹس محکمہ صحت کو ارسال کی جائیں گی۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں ایمبولینس سروسز کو بھی ہائی الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت ریسکیو آپریشن کیا جا سکے۔ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ امدادی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
اسکول کی چھت گرنے کا یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے اور تشویش کا باعث بنا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے گورنر نے بھی اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے دس دس لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اس مشکل وقت میں مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے۔
اسپتالوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد طبی ماہرین کی ٹیمیں زخمیوں کی جان بچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ اسپتال انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زخمیوں کی مدد کے لیے خون کے عطیات اور دیگر ضروری تعاون کے لیے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ عمارت کی تعمیر میں کن پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔ ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
شہر کے دیگر نجی اور سرکاری طبی مراکز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اپنے وسائل تیار رکھیں۔ محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔
عوام سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ وہ اسپتالوں کے باہر ہجوم نہ لگائیں تاکہ ریسکیو ٹیموں اور ایمبولینسوں کی آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ زخمیوں کے اہل خانہ کو اسپتال انتظامیہ کی جانب سے مسلسل معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پشاور کی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت اس مشکل گھڑی میں زخمیوں کی مکمل بحالی کے لیے پرعزم ہیں۔ تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ متاثرین کو علاج معالجے میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔





اپنی رائے دیں