پشاور کے علاقے دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی جانب سے تیار کردہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے۔ اس رپورٹ میں سکول انتظامیہ کی جانب سے سنگین غفلت برتنے کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سکول کی عمارت کی بالائی منزل کی چھت حالیہ بارشوں کے باعث انتہائی خستہ حال ہو چکی تھی اور کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ موجود تھا۔ اس خطرے کے باوجود انتظامیہ نے عمارت کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سکول کے طلباء نے خود بھی سکول کے مالک خان محمد کو چھت کی مخدوش حالت کے بارے میں آگاہ کیا تھا اور انہیں ممکنہ خطرے سے خبردار کیا تھا۔ تاہم انتظامیہ نے بچوں کی جانوں کو داؤ پر لگا کر لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔
انتظامیہ نے چھت کی مناسب مرمت کرنے کے بجائے اسے محض عارضی سہارے دے کر کام چلانے کی کوشش کی۔ اس غیر ذمہ دارانہ رویے کے نتیجے میں سکول کی عمارت بچوں کے لیے موت کا کنواں ثابت ہوئی اور چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں عمارت کی ساخت، چھت کی خستہ حالی اور سکول انتظامیہ کی جانب سے کی گئی مجرمانہ غفلت کی تمام تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ یہ رپورٹ صوبائی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے تاکہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے اور والدین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سکول انتظامیہ کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔
تعلیمی اداروں میں عمارتوں کی حفاظت اور معیار کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اس سانحے نے ملک بھر کے نجی سکولوں کی عمارتوں کی حالت زار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں جن کی فوری جانچ پڑتال وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کی کوشش کی، تاہم چھت گرنے سے ہونے والے نقصانات نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ مقامی لوگوں نے بھی امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سخت نوٹس لیے جانے کی توقع ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ سکولوں میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضابطہ اخلاق کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ کسی بھی نجی سکول کو بچوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غفلت برتنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اسکولوں کی عمارتوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ کا اجراء اب ایک سنجیدہ معاملہ بن چکا ہے۔ محکمہ تعلیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام نجی سکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرے تاکہ کسی بھی خستہ حال عمارت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری نہ رہ سکیں۔
دیر کالونی کا یہ واقعہ ایک سبق ہے کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات اور عمارت کی مضبوطی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ بچوں کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنانا سکول مالکان اور متعلقہ حکام کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
واقعے کے بعد سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں